ویب ڈیسک: غیرملکی ہنرمندوں کیلئے H-1B ویزوں کے اجرا پر ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ میں اختلافات ، سوشل میڈیا پر حامی اور مخالف آمنے سامنے آگئے۔
ایلون مسک اور وویک رامسوامی کی جانب سے انتہائی ہنرمند کارکنوں کے لیے ویزا پروگرام میں توسیع کے حق میں بحث کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹس سے صدر منتخب ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان اس بحث کا آغازہوگیا ہے کہ H-1B ویزا پروگرام آئندہ انتظامیہ کے جارحانہ امیگریشن ایجنڈے میں کیسے فٹ ہونا چاہیے۔
یادرہے ایلون مسک اوررامسوامی، جنہیں ٹرمپ نے محکمہ DODGE کی سربراہی کے لئے نامزدکیا ہے۔ سوشل میڈیا پر حال ہی میں کئے جانیوالی کچھ پوسٹس میں ان کمپنیوں کا دفاع کیا جو H-1B ویزوں پر امریکا آنیوالے ان غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کرتی ہیں۔ ان ہائی ٹیک کمپنیوں میں ایلون مسک کی ملکیت کمپنیاں جیسے کہ ٹیسلا، سپیس ایکس اور ایکس بھی شامل ہیں۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وفادارافراد نے کھل کر ایلون مسک اور رامسوامی کی مخالفت کی ہے۔ یہ افراد توقع کررہے ہیں کہ امریکا کی آئندہ انتظامیہ تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کرے گی اور امریکی لیبر کو فروغ دے گی۔
واضح رہے کہ صدرٹرمپ نے اپنی پہلی مدت میعاد کے دوران غیر ملکی کارکنوں کے ویزوں تک رسائی کو محدود کرتے ہوئے H-1B پروگرام کو نشانہ بنایا تھا۔
ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، مسک نے کہا کہ امریکی ٹیک کمپنیوں کو آج امریکا میں کام کرنے والے انجینئرز کی "دوگنا" ضرورت ہے اور اس پروگرام کے فوائد کا موازنہ دنیا بھر سے بہترین ٹیلنٹ کو بھرتی کرنے والی پیشہ ورانہ کھیلوں کی ٹیم سے کیا۔
"اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی ٹیم چیمپیئن شپ جیتے، تو آپ کو اعلیٰ ٹیلنٹ کو بھرتی کرنے کی ضرورت ہے جہاں سے بھی وہ ہوسکتے ہیں۔ یہ پوری ٹیم کو جیتنے کا اہل بناتا ہے،" مسک نے X پر لکھا۔
مسک نے جمعرات کو ایک اور پوسٹ میں لکھا، "میں قانونی امیگریشن کے ذریعے انجینئرنگ کے 0.1 فیصد ٹیلنٹ کو امریکا میں جیتنے کے لیے ضروری قرار دے رہا ہوں۔ "امریکا کو کھیلوں کی ایسی ٹیم جو طویل عرصے سے فاتح ہے اور اس کے جیت کے اعزاز کو رکھنا چاہتی ہے صحیح ذہنی تعمیر ہے۔"
رامسوامی، بھارتی نژاد امریکی ہیں جن کے والدین بھارتی تارکین وطن ہیں نے ایلون مسک کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے ان کمپنیوں کا دفاع کیا ہے جو امریکا سے باہر سے غیرملکی کارکنوں یا امریکی تارکین وطن کے بچوں کو بھرتی کرتی ہیں۔
انہوں نے جمعرات کو اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھاہے کہ "ہماری امریکی ثقافت نے بہت لمبے عرصے تک (کم از کم 90 کی دہائی سے اور ممکنہ طور پر اس سے زیادہ) تک عمدگی پر اعتدال پسندی کی عزت کی ہے۔ یہ کالج سے نہیں بلکہ نوجوانی سے شروع ہوتا ہے، ۔
"ایک ثقافت جو ریاضی کے اولمپیاڈ چیمپیئن پر پروم کوئین، یا ویلڈیکٹورین پر جوک کا جشن مناتی ہے، بہترین انجینئر پیدا نہیں کرے گی۔"
ان دونوں کی غیرملکی کارکنوں کے بارے میں ٹویٹ نے ’’ میک امریکا گریٹ اگین’’ کے حامیوں کو فکرمند کردیا ہے جو H-1B ویزا پروگرام میں توسیع کے خلاف ہیں۔
انتہائی دائیں بازو کی کارکن لورا لومر، قدامت پسند پنڈت این کولٹر اور سابق نمائندے میٹ گیٹز جیسے ٹرمپ کے وفاداروں نے اس مؤقف پر ان دونوں ٹیک انٹرپرینیورز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
گیٹز نے جمعرات کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، "ہم نے ٹیک برادرز کا خیرمقدم کیا جب وہ تیسرے درجے کے استاد کے اپنے بچے کی جنس منتخب کرنے سے بچنے کے لیے ہمارے راستے پر آئے- "ہم نے ان سے امیگریشن پالیسی بنانے کے لیے نہیں کہا۔"
اقوام متحدہ کی سابق سفیر نکی ہیلی نے بھی رامسوامی کی مذمت کرتے ہوئے آئندہ انتظامیہ سے امریکی کارکنوں کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنی پوسٹ میں انہوں نےلکھا کہ "امریکی کارکنوں یا امریکی ثقافت میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ آپ کو صرف سرحد کو دیکھنا ہے ۔ ہمیں امریکیوں میں سرمایہ کاری اور ترجیح دینی چاہیے، غیر ملکی کارکنوں پر نہیں،‘‘۔
دوسری طرف مسک اور رامسوامی کی پوزیشن کو کچھ ڈیموکریٹس میں بھی حمایت ملی ہے۔
کولوراڈو کے جیرڈ پولس کا کہنا ہے کہ "وہ اسے جزوی طور پر درست سمجھتے ہیں۔ ہنرمند تارکین وطن امریکی معیشت کے دیگر شعبوں جیسے زراعت اور تعمیرات میں اہم ہیں۔
H-1B ویزا پروگرام 65,000 انتہائی ہنر مند کارکنوں کیلئے مخصوص ملازمتوں پر سالانہ جاری کئے جاتے ہیں جبکہ ایسے کارکنوں کیلئے جنہوں نے امریکا میں اعلی ڈگری حاصل کی ہے کو مزید 20,000 ویزے سالانہ جاری کئے جاتے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کاکہنا ہے کہ یہ پروگرام امریکی کمپنیوں کو مسابقت برقرار رکھنے اور اپنے کاروبار کو بڑھانے کی اجازت دیتا ہے، جس سے امریکا میں مزید ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں۔
زیادہ تر یہ ملازمتیں ٹیک سیکٹر میں پیداہوتی ہیں، جہاں کمپنیوں کے پاس خصوصی کارکنوں کی بہت زیادہ مانگ ہوتی ہے۔
یادرہے ایلون مسک ایک غیر ملکی طالب علم کے طور پر امریکا آئے تھے اور انہوں نے بعد میں H1-B ویزا پر کام کیا۔
دوسری طرف ٹرمپ اس سے قبل H-1B ویزوں کی مخالفت کر چکے ہیں، اپنی پہلی صدارتی مہم کے دوران سخت تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔
2020 میں، ٹرمپ نے متعدد مواقع پر H-1B ویزوں تک رسائی کو محدود کر دیا۔
لیکن اپنی حالیہ صدارتی مہم میں، ٹرمپ امریکا میں کام کرنے کے لیے آنے والے انتہائی ہنر مند غیرملکیوں کے لیے زیادہ حمایتی نظر آئے۔ جون میں ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو میں، ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی بھی غیرملکی شہری کو جو امریکا سے ڈگری یافتہ ہے گرین کارڈ دینا چاہتے ہیں۔