ملکی سیاسی،معاشی بحران کیلئے قومی کمیٹی بنائی جائے،ن لیگ

ملکی سیاسی،معاشی بحران کیلئے قومی کمیٹی بنائی جائے،ن لیگ
کیپشن: ملکی سیاسی،معاشی بحران کیلئے قومی کمیٹی بنائی جائے،ن لیگ

ویب ڈیسک:ن لیگ نےملکی بحران کے حل کے لیے قومی کمیٹی بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا عمران خان،نوازشریف،آصف علی زرداری سمیت مولانا فضل الرحمٰن، حافظ نعیم الرحمٰن، شاہد خاقان عباسی، ڈاکٹر مالک بلوچ، آفتاب خان شیرپاؤ، پیر پگارا، چودھری نثار علی خان سمیت دیگر اسٹیک ہولڈز کو کمیٹی کا حصہ بنانا چاہیے۔

مجھے عمران خان نے نہیں بلکہ باجوہ اور ثاقب نثار نے جیل میں ڈالا تھا،خواجہ سعدرفیق

تفصیلا ت کے مطابق لاہور میں  شہید جمہوریت خواجہ محمد رفیق شہید کے 52 ویں یوم شہادت کے موقع پر مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک آپس کی دھینگا مشتی میں گِھرا ہوا ہے۔

خواجہ رفیق شہید کو پیپلزپارٹی کے اقتدار کی پہلی سالگرہ کے موقع پر یوم سیاہ مناتے ہوئے پیپلز گارڈ نے دن دہاڑے گولیاں مار کر شہید کر دیا،آج کا بھٹو سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں تھا بلکہ سیاسی اختلاف تھا،مادر ملت کے چیف ایجنٹ اور تحریک پاکستان کے ایک کارکن کو آواز اٹھانے پر شہید کیا گیا،انہیں صرف 45 سال کی عمر میں شہید کر دیا گیا تھا،ہمارا سارا سیاسی سفر ہماری والدہ کی وجہ سے چلا ہے۔1978 میں چندہ اکٹھا کر کے خواجہ رفیق کی برسی منانے کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہالیکن گذشتہ سال ہم نے یہ پروگرام نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم جنرل باجوہ اور ثاقب نثار کی وجہ سے جیل میں تھے تو مجھے اور خواجہ سلمان رفیق کو سوچنے کا بڑا موقع مل گیا،میرا 8 فروری کا الیکشن لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا،سیاست میرے خون میں ہے،پاکستان ریمورٹ کنٹرول جمہوریت سے آگے نہیں چل سکتا،آج ملک کی سمت درست نہیں،یہ صرف فوجی کنٹرول نہیں ہوتا،ریمورٹ کنٹرول کی 3۔اقسام ہیں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ایک فوجی کنٹرول، دوسرا پارٹی قیادت کی آمریت اور تیسری چند جج چیمبر میں بیٹھ کر فیصلہ کریں تو وہ عدالتی آمریت بھی ریمورٹ کنٹرول جمہوریت ہوتی ہے،پاکستان تینوں طرح کی ریمورٹ کنٹرول جمہوریت کا شکار ہے،اس سے ملک آگے نہیں چل سکتا،یہ دو قدم اگے تو زیادہ قدم پیچھے آ جاتا ہے۔23 کروڑ آبادی کا ملک ہے۔

سعد رفیق کا کہنا ہے کہ آج جہاں کھڑے ہیں اس کے ذمے دار بانی پی ٹی آئی عمران خان ، ثاقب نثار اور باجوہ ہیں۔‎ان کا ذکر بھی ہونا چاہیئے۔‎یہ نہیں ہو سکتا کہ سیاستدانوں کا نام لیا جائے اور فوج گالف کھیلتے رہیں،یہ اپنی غلطی نہیں مانتے، فاشسٹ سوچ کے ساتھ آنا چاہتے ہیں، انہوں نے ایک اقتدار کے لیے ہماری حکومت گرائی۔

مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا ہے کہ میری اس وقت بھی بات نہیں سنی گئی اور آج بھی کوئی نہیں سنتا، آج سیاسی مذاکرات شروع ہو چکے ہیں، ہم ان کی حمایت کرتے ہیں، ان مذاکرات کو غیر مشروط ہونا چاہیے، ایک دوسرے پر گولہ باری ہوتی رہے لیکن گفتگو میں سنجیدگی ہونی چاہیے، توقع ہے کہ مذاکرات سنجیدہ ہوں گے اور کوئی راستہ نکلے گا۔

سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان تینوں طرح کی ریموٹ کنٹرولڈ جمہوریت کا شکار ہے، پاکستان ریموٹ کنٹرول جمہوریت سے آگے نہیں بڑھ سکتا، یہی حالات رہے تو بہت سے لوگ غیر متعلقہ ہو جائیں گے، ملک درست سمت میں چل پڑا تھا، ہم نے پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں گرائی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر کوئی کہتا ہے کہ ملک ہماری مرضی سے چلے گا، کسی کا کوئی پردہ باقی نہیں رہا کیونکہ ہم سب کو دیکھ چکے ہیں، اگر یہی حالات رہے تو نئی حقیقتیں جنم لیں گی۔

ن لیگی رہنما نے مزید کہا کہ میں بطور سیاسی کارکن تجویز دے رہا ہوں کچھ اکابر سر جوڑیں، مولانا فضل الرحمٰن، حافظ نعیم الرحمٰن، شاہد خاقان، آفتاب شیر پاؤ، پیر پگارا، چوہدری نثار اور لشکری رئیسانی موجودہ حالات کا حل نکالیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ مذکرات کے کئی ادوار ہو سکتے ہیں، سب سوچیں ملک کو ٹریک پر واپس کیسے لانا ہے، سیاست میں کوئی کسی کو دفن نہیں کر سکتا، بھٹو اور نواز شریف کی سیاست آج تک ختم نہیں ہو سکی، سیاست کا غیر سیاسی طریقے سے مقابلہ نہیں ہو سکتا۔

نواز شریف، عمران خان، آصف زرداری مذاکرات کیلئے بیٹھ جائیں تو زیادہ بہتر ہو گا،رانا ثناء اللّٰہ

  خواجہ رفیق کی برسی پر منعقدہ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف، بانی پی ٹی عمران خان اور آصف زرداری مذاکرات کیلئے بیٹھ جائیں تو زیادہ بہتر ہو گا،سیاستدانوں کو مذاکرات پر بیٹھنے سے پہلے غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔73ء کے آئین کے بعد میثاقِ جمہوریت ایک مقدس دستاویز ہے، میثاقِ جمہوریت سے پہلے ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اپنے غلطیوں کا اعتراف کیا۔

انہوں نے کہا کہ سیاستدان بیٹھیں اور اپنے معاملات حل کریں،مسلم لیگ ن بطور جماعت اور نوازشریف یہ کہہ چکے ہیں کہ ملک اس وقت جس بحران کا شکار ہے میرا چالیس سالہ سیاست کا تجربہ ہے کہ جب تک ہم سر جوڑ کر نہیں بیٹھیں گے اس وقت تک اس بحران سے نہیں نکل سکتے۔اس کے بعد کسی کی طرف سے جن کی طرف سے یہ جواب آنا چاہیے تھا کیا ان کی طرف سے یہ جواب آیا،26نومبر 2024 تک یہ سوچ نہیں تھی،اس وقت تک سوچ اور کوشش بھی وہی تھی کہ آپ اپنی تیاری کریں۔

انہوں نے کہا کہ 70 سال کا بحران 70 دنوں میں ختم ہو سکتا ہے،رانا ثنااللہ نے سعد رفیق کے تجویز کردہ 7 افراد میں مزید تین نام تجویز کر دیے،رانا ثںااللہ نے نوازشریف، آصف زرداری اور عمران خان کا نام تجویز کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کہا جا رہا ہے پی ٹی آئی کے خلاف جھوٹے مقدمات بنوائے گئے، مقدمات تو ہمارے خلاف بھی جھوٹے تھے، اگر اپنا آج کا سچ منوانا ہے تو ہمارا کل کا سچ بھی تسلیم کرو، کم از کم اظہار افسوس ہی کر دو۔

نوازشریف سے مشورہ کرکے ہائی لیول کمیٹی بنائی جو گفتگو کرے گی:ایازصادق

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سیمینار سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور سپیکر نہیں بلکہ بطور شہری کچھ سوالات اٹھتے ہیں،دہشت گردی پر کہاجاتا ہے سب سے زیادہ مشکلات اس وقت کے پی و بلوچستان میں ہیں،دہشت گردی کو مالی مدد کہاں سے مل رہی ہے پاکستان نے ضرب عضب رد الفساد میں اربوں ڈالر خرچ کئے تاکہ ملک محفوظ ہو، 65 ہزار سے زائد لوگ شہید ہوئے ہیں ایسی جنگ تھی جو پاکستان معاشی بحران سے بھی گزر رہا تھا جنگ لڑنی بھی ضروری تھی۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ افواج پاکستان کے وردی میں لوگ شہید کئے گئے نومبر 2021ء میں کیا ہوا جو دہشت گردی کے پی و بلوچستان میں ہو رہی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے،دہشت گردی واپس پاکستان میں آ رہی ہے اگر اصلاح نہیں کریں گے تو مسئلہ میں پھنس جائیں گے،مجھے حوالدار کا لقب دیا گیا ہے مجھے فخر ہے ان سپاہیوں پر جنہوں نے چوبیس کروڑ پاکستانیوں کی حفاظت کےلیے جانوں کی قربانیاں دیں سینوں پر گولیاں کھائیں تاکہ ہم سکون سے رہ سکیں۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ حوالدار و سپاسی چیک پوسٹ بارڈر پر کھڑا ہوتا ہے مجھے جب حوالدار کا لقب ملا تو خوشی ہوئی،نو مئی کا ذکر کرنے سے کتراتے ہیں پاکستان کے علاوہ کہیں کچھ نہیں ہوا ٹارگٹ وہی جگہ بنی جہاں ملکی بنیاد کو کمزور کرنے کی بات کی،سرحدوں کے محافظ پر حملہ کیاگیایہ کام  بھارتی فوج نہ کر سکی جو پی ٹی آئی نے کردیا،کیا  ملٹری کورٹس سے پہلی بار سزائیں ملیں 2018سے 2022ء تک سزائیں اس پر کیوں بات نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں ہسپتالوں پر حملوں پر ان لوگوں نے باہر بیٹھے ٹوئٹس کیوں نہ کیں،تلخیاں اپنی جگہ لیکن پی ٹی آئی سے بات چیت ہونی چاہیے وہ جماعت جس نے پونے چار سال بات کرنے سے انکار کیا،پی ٹی آئی سے مفاہمت کی بات حکومت سے کی گفتگو کیا ہوئی یہ فیصلہ حکومت و اپوزیشن کرے گی،شہبازشریف سے مفاہمت کی بات کی کہ مجھ سے رابطہ کیاگیا تو نوازشریف سے مشورہ کرکے ہائی لیول کمیٹی بنائی جو گفتگو کرے گی۔

2فوجی حکمرانوں نے امریکا کی غلامی قبول کی اورنتیجہ ہم آج بھی بھگت رہے ہیں:خواجہ آصف

وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میرے متعلق قیاس ہے کہ میں مذاکرات کے حق میں نہیں،میں مذاکرات کا مخالف نہیں،کئی دفعہ کہا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں لیکن کوئی ردعمل نہیں آیا،بدتمیزی کے ساتھ جواب دیا جاتا تھا،ہم اقتدار میں آئے تب بھی کہہ دفعہ کہا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں،گزشتہ 15 روز میں کیا چیز ہوئی کہ پی ٹی آئی ہمارے ساتھ مذاکرات پر تیار ہو گئی،اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تو یہ ہمیشہ مذاکرات کے لیے راضی تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں مذاکرات کے خلاف نہیں لیکن مجھے سمجھائیں اب ایسا کیا ہوا کہ یہ راضی ہو گئے،مذاکرات کے لیے کیا کوئی تعویز آیا یا کسی نے پھونک ماری،کہا جاتا رہا کہ ان کی اوقات نہیں جن کی اوقات ہے ان سے مذاکرات کریں گے،وہ اپوزیشن لیڈر تھا تو ہماری طرف پشت کر لیتا تھا،میں کوئی قیاس آرائی کروں تو ہو سکتا ہے مذاکراتی عمل کو نقصان ہو، اللہ کرے مذاکرات کامیاب ہوں لیکن خیال رکھنا رل نہ جانا،اس شخص کی تاریخ ہے، پی ٹی آئی والے بتا دیں اس نے کس سے وفا کی۔زندگی میں کسی ایک شخص یا رشتے سے اس نے وفا کی ہو،وہ لوگوں کو استعمال کرتے ہیں، وارننگ دیتا ہوں استعمال نہ ہو جانا۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ طاقت کے بڑے مراکز کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل ڈھونڈنا چاہیے،ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں بڑی تلخیاں رہیں لیکن دونوں خلوص دل سے ساتھ ہیں،ہمارے تعلقات میں کبھی کبھار کھڑاک ہوتا ہے لیکن ہم نے میثاق جمہوریت کا لحاظ رکھا ہوا ہے،ایک دوسرے سے اختلاف بھی کرتے ہیں لیکن دوبارہ ماضی کی تلخیوں کی طرف واپس نہیں جاتے،طاقت کی پوزیشن میں کوئی مذاکرات کرتا ہے تو اس کے خلوص پر شک نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ بندہ قید میں ہو، مشکلات میں گھرا ہو اور مذاکرات کی بات کرے تو تھوڑا سا خیال کرنا چاہیے،کسی سیاستدان نے امریکا کے ترلے نہیں کیے، بھٹو نے بھی امریکا کو آنکھیں دکھائیں،یہ پہلا سیاستدان ہے جو امریکا کی منتیں کر رہا ہے کہ مجھے بچائیں،2 فوجی حکمرانوں نے امریکا کی غلامی قبول کی جس کا نتیجہ ہم آج بھی بھگت رہے ہیں۔

اپنی مرضی کے لوگوں کو مسلط کرنا یہ اب نہیں چل سکتا،لیاقت بلوچ

لیاقت بلوچ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ رفیق شہید ایک جرات مند انسان تھے،فوجی آمریتیں پاکستان کے مسائل کا حل نہیں ہے،سول بیوروکریسی بھی ملک کو بحرانوں سے نہیں نکال سکتا،آئین توڑنا ، ان پر اثر انداز ہونا، اپنی مرضی کے لوگوں کو مسلط کرنا یہ اب نہیں چل سکتا،ماضی میں جو غلطیاں ہوچکی ہیں ان سے کوئی مبرا نہیں ہے،ہمیں ان نتائج کو سمجھنا چاہیے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک وسائل سے مالا مال ہے لیکن دنیا بھر کے سامنے کشکول اٹھا کر گھوم رہے ہیں،ججوں کی ترقی پسند نہ پسند پر ہوگی تو یہ ان کے فیصلوں کو متنازع بناتی ہے،ایک مجبور عدلیہ پاکستان کے لئے ترقی کا باعث نہیں بن سکتی،بلوچستان اور پارا چنار کی حالت ابتر ہے،گڈ طالبان ، بیڈ طالبان چل رہا ہے،آج ملٹری کورٹس کے بارے میں بہت ساری باتیں کی جاسکتی ہیں،ہم جس بھی جگہ جائے کہی نہ کہی سب کا تعلق پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پانچواں الیکشن مسلسل ہورہا ہے،ہر الیکشن کے بعد نئے لوگوں کو لے آیا جاتا ہے،قومی ڈائیلاگ ہونا چاہیے،قومی قیادت کو قومی ایجنڈے کی تشکیل دینی چاہیے،قومیُ قیادت کو ایجنڈا آئین کا تحفظ آزاد عدلیہ ، صاف انتخابات اور قومی وسائل کی صاف شفاف تقسیم ضروری ہے،نوجوانوں کو مایوس کیا جارہا ہے،ہمیں اپنا مائنڈ سیٹ بدلنا ہوگا۔

ملک کو چلانےکیلئےقانون پرعمل کرناہوگا،سینئر صحافی سہیل وڑائچ 

سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جمہوریت و آئین وہ بنیاد ہے جس سے ملک چلتے ہیں،اگر ملک کو چلانا ہوگا تو قانون پر عمل کرنا ہوگا کوئی چیز آئین سے بالاتر نہیں ہونی چاہیئے،پارلیمنٹ کو اختیار حاصل ہے قانون بنائے قانون تو بن چکا ہے،کہنے کا شوق ملک میں بحران ہے ہر ملک میں بحران ہوتا ہے پاکستان کو بحرانوں سے نکالنا ہے،ہم نے فوج کا اتحادی اور ایک مخالف ہوتا ہے جب تک یہ تبدیل نہیں ہوگا ایسے ہی چلنا رہے گا۔

سہیل وڑائچ  نے کہا کہ مصالحت و مفاہمت ہونی چاہیئے لیکن چند بنیادی باتیں طے ہونی چاہئیں،چارٹر آف ڈیمو کریسی میں طے ہوا کہ فوج کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئے گا کوئی لانگ مارچ نہیں کرے گا،طے کیا جائے آئین کو کوئی چھیڑے گا تو سب اکٹھے ہوں جائیں گے،مکمل اختیار و طاقت نہیں ملے گی جب تک اکٹھے نہ ہوں گے مکمل خود مختاری کی حکومت کی کوشش کریں۔

Watch Live Public News