حکومت اورپی ٹی آئی کے مذاکرات ختم،کمیٹی برقراررہےگی

حکومت اورپی ٹی آئی کے مذاکرات ختم،کمیٹی برقراررہےگی
کیپشن: حکومت اورپی ٹی آئی کے مذاکرات ختم،کمیٹی برقراررہےگی

ویب ڈیسک:اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا آج چوتھا دور ہونا تھا، تاہم پی ٹی آئی نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا اور مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق منگل کو حکومت کی اتحادی جماعتوں کے کمیٹی اراکین اجلاس میں شریک ہوئے جن میں راجہ پرویز اشرف، رانا ثنا اللہ، اسحاق ڈار، خالد مگسی اور اعجاز الحق شامل تھے۔لیکن پی ٹی آئی یا اپوزیشن کی جانب سے کوئی اجلاس میں شریک نہ ہوا، جس پر اجلاس ختم کردیا گیا۔

اسپیکر ایاز صادق نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج 28 تاریخ ہے اور آج پی ٹی آئی کے مطالبے کا وقت مکمل ہو جاتا ہے۔ ہم نے ان سے رابطہ بھی کیا اور 45 منٹ تک انتظار بھی کیا، مگر وہ نہیں آئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی کی تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور توقع تھی کہ آج بھی وہ آتے، لیکن اب اس کمیٹی کو ان کے بغیر آگے نہیں چلایا جا سکتا۔ مذاکراتی کمیٹی اپنی جگہ پر رہے گی، ہم اسے مکمل طور پر ختم نہیں کر رہے، شاید دونوں طرف سے کوئی بہتری آئے۔

اسحاق ڈار

اسحاق ڈار نے  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے قیام پر آئیں قانون کے مطابق راستہ ہے۔ حکومت نے اب تک تحریری جواب اسپیکر قومی اسمبلی کو جمع نہیں کرایا۔

رانا ثنا اللہ

رانا ثنا اللہ نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے علاوہ کوئی حل نہیں، پی ٹی آئی کو بالآخر مذاکراتی ٹیبل پر ہی آنا پڑیگا، مذاکرات کے علاوہ کوئی حل نہیں،جمہوریت میں مذاکرات لازمی ہوتے ہیں پی ٹی آئی مذاکرات پر یقین نہیں رکھتی، پی ٹی آئی کا یہ رویہ کوئی نیا نہیں بلکہ پرانا ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ اگر پی ٹی آئی سڑکوں پر آتی ہے تو کیا کرینگے؟

رانا ثنا اللہ نےکہا کہ اگر پی ٹی آئی سڑکوں پر آتی ہے تو وہی ہوگا جو پہلے ہوا،تحریک انصاف کے ارکان مذاکرات پر سنجیدہ ہیں، پی ٹی آئی کے ارکان مذاکرات پر تو سنجیدہ ہیں مگر پیچھے سے انکو غلط فیڈ کیا جاتاہے۔

سینیٹر عرفان صدیقی 

اس سے قبل حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں 7 جماعتیں ہیں،  باقی جماعتوں کے قائدین کو باندھ کے نہیں  رکھ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے مطالبے کے مطابق اگر کوئی تراش خراش کرنی ہے تو وہ بھی کریں گے، اگر وہ نہیں آتے تو ظاہر ہے کہ پھر یہ ان کا حتمی فیصلہ ہے کہ انہوں نے مذاکرات کا سلسلہ ختم کردیا ہے، کمیٹی میں 7 جماعتیں ہیں ان کو ہم قید کر کے نہیں رکھ سکتے، اگر وہ ملاقات سے گریزاں ہیں تو پھر ہم غور کریں گے کہ کمیٹی کو تحلیل کردیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف 

وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ میں مذاکراتی ، کمیٹی کا حصہ نہیں لیکن اگر   پی ٹی آئی نے انکار کر دیا ہے تو بھی مشق لاحاصل ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی پی ٹی آئی کا انتظار کرنا چاہتی ہے تو الگ بات ہے، انکار کے باعث کوئی گنجائش نہیں رہتی، مذاکرات کے راستے ہمشیہ کھلے رکھنے چاہیں، مذاکرات کے راستے بند کرنا جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔

یاد رہے اس سے قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف نے اسپیکر قومی اسمبلی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ایاز صادق کی جانب سے رابطہ کرنے کے باوجود آج ہونے والے اجلاس میں بیٹھنے سے انکار کردیا تھا۔

قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسپیکر سردار ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ عمر ایوب کو ٹیلیفون کیا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی اور کہا کہ تمام مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے، ٹیبل ٹاک اور مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل نکالا جا سکتا ہے۔

عمر ایوب نے اسپیکر ایاز صادق کو بانی پی ٹی آئی کے فیصلے سے آگاہ کیا اور کہا کہ حکومت ہمارے مطالبات پر تاخیری حربے اختیار کیے، جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے بنا مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

ذرائع نے کہا کہ بانی چئیرمین کے کہنے پر پی ٹی آئی نے مذاکراتی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے مطالبے پر قائم ہے۔

پی ٹی آئی ذرائع نے واضح کیا کہ جب تک جوڈیشل کمیشن نہیں بنایا جائے گا پی ٹی آئی مذاکرات کو آگے نہیں بڑھائے گی۔

Watch Live Public News