ویب ڈیسک: (علی زیدی) سیارچہ 2024 YR4، جو چند ماہ قبل زمین سے ممکنہ تصادم کے باعث عالمی خلائی ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا تھا، اب دوبارہ سرخیوں میں ہے اور اس مرتبہ اس کی وجہ ممکنہ چاند سے تصادم بتائی جارہی ہے۔ تازہ فلکیاتی مشاہدات کے مطابق یہ 60 میٹر قطر والا خلائی پتھر 2032 کے آخر میں چاند سے ٹکرا سکتا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر دسمبر 2024 میں دریافت ہونے والے اس سیارچے کے بارے میں اندازہ تھا کہ یہ 22 دسمبر 2032 کو زمین سے ٹکرا سکتا ہے۔ ایک موقع پر اس کے زمین سے ٹکرانے کے امکانات 3.1 فیصد تک جا پہنچے تھے، جو اسے اب تک دریافت شدہ سب سے خطرناک سیارچہ بناتا تھا۔ تاہم، بعد ازاں زمینی اور خلائی دوربینوں سے حاصل کردہ مشاہدات کی مدد سے ماہرین نے زمین کو درپیش خطرہ ختم کر دیا۔
ناسا کے مطابق جون 2025 میں کی گئی آخری پیمائشوں نے YR4 کی سمت کا اندازہ 20 فیصد زیادہ درستگی سے لگانے میں مدد دی۔ مگر نئی معلومات نے ایک اور خطرہ سامنے لایا ہے۔یہ سیارچہ چاند سے ٹکرا سکتا ہے، جس کے امکانات 4.3 فیصد تک بتائے گئے ہیں۔
اگر تصادم ہوتا ہے تو چاند کی سطح پر ایک کلومیٹر چوڑا گڑھا بن سکتا ہے، جو گزشتہ 5,000 سال میں چاند پر ہونے والا سب سے بڑا تصادم ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اس دھماکے سے چاند کی مٹی اور پتھر خلا میں بکھر جائیں گے، جن میں سے کچھ ذرات ممکنہ طور پر زمین کی سمت بھی آ سکتے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین پر ان ذرات سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوگا، کیونکہ یہ ریت کے ذروں جتنے چھوٹے ہوں گے اور ہمارے کرہ ہوائی میں جل کر ختم ہو جائیں گے۔ تاہم، یہ ذرات زمین کے گرد چکر لگانے والے مصنوعی سیاروں اور خلائی انفرااسٹرکچر کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، خصوصاً اگر وہ نازک حصوں سے ٹکرائیں۔
خطرہ صرف چاند پر موجود ممکنہ انسانی مشن یا وہاں بننے والے ریسرچ اسٹیشنز کو بھی ہو سکتا ہے۔ بغیر فضا کے چاند پر، تصادم کا ملبہ دور تک پھیل سکتا ہے، جو وہاں موجود سازوسامان کو متاثر کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر YR4 کا راستہ مزید خطرناک ثابت ہوا تو شاید کسی ‘DART’ جیسا مشن ترتیب دینا پڑے، جیسا کہ ناسا نے 2022 میں ایک سیارچے کو راستے سے ہٹانے کے لیے کیا تھا۔ تاہم فی الحال اس امکان پر مزید تحقیق کی جا رہی ہے، اور سیارچہ دوبارہ 2028 میں مشاہدے کے دائرے میں آئے گا، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جا سکے گا۔
اس ممکنہ تصادم سے ایک بار پھر اس بات کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے کہ خلا میں موجود چھوٹے مگر تیز رفتار اجسام پر مسلسل نظر رکھنا کتنا ضروری ہے — اب صرف زمین ہی نہیں، بلکہ چاند اور خلا میں موجود دیگر اثاثے بھی ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔