ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، ہم اسے بری طرح شکست دے رہے ہیں، صدر ٹرمپ

ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، ہم اسے بری طرح شکست دے رہے ہیں، صدر ٹرمپ
کیپشن: ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، ہم اسے بری طرح شکست دے رہے ہیں، صدر ٹرمپ

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی بحری، فضائی اور دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد تہران مذاکرات پر آمادہ ہوا ہے۔

ریاست مشی گن میں خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی بحریہ، فضائیہ، عسکری قیادت اور فضائی دفاعی نظام کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول ایران کی ڈرون اور میزائل تیار کرنے کی زیادہ تر صلاحیت بھی ختم ہو چکی ہے اور وہ اب اپنی سابقہ استعداد کے صرف تقریباً 7 فیصد کے برابر رفتار سے ڈرون تیار کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سخت امریکی اقدامات ہی ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کا سبب بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے مؤثر کارروائی نہ کی ہوتی تو ایران بات چیت پر آمادہ نہ ہوتا۔

اپنے خطاب میں ٹرمپ نے گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران کو مشرقِ وسطیٰ کا "غنڈہ" قرار دیتے ہوئے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی ایران پالیسی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اوباما کا خیال تھا کہ ایران کو رعایتیں دے کر قائل کیا جا سکتا ہے، لیکن " ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے، اور ہم اسے بری طرح شکست دے رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں جاری ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔

امریکی صدر نے بحری ناکہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ کی کارروائیاں اس قدر مؤثر ہیں کہ "ایک بھی کشتی گزر نہیں سکتی۔" ان کے مطابق ایران امریکا سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی درخواست کر رہا ہے۔

اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا طاقتور فوجی آپریشن کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سفارت کاری کو زیادہ وقت نہیں دیں گے اور مذاکرات کو جلد نتیجہ خیز ہونا ہوگا، بصورت دیگر دیگر آپشنز پر غور کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ مذاکرات کسی مثبت نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

Watch Live Public News