پاکستان کا امریکہ پر میزائل حملے کابھارتی پروپیگنڈا بےنقاب

پاکستان کا امریکہ پر میزائل حملے کابھارتی پروپیگنڈا بےنقاب
کیپشن: پاکستان کا امریکہ پر میزائل حملے کابھارتی پروپیگنڈا بےنقاب

ویب ڈیسک: پاکستان نے بعض بین الاقوامی حلقوں میں اُٹھائے گئے ان خدشات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ پاکستان کسی طور پر امریکہ پر بیلسٹک میزائل حملے کی صلاحیت یا ارادہ رکھتا ہے۔ حکومتی ذرائع اور ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے دعوے نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی حقیقتوں اور پاک- امریکہ بہتر ہوتے تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی ایک کوشش ہیں۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کے امریکہ سے وسیع البنیاد اور اہم تعلقات ہیں، جن میں تجارت، برآمدات، زرمبادلہ کی ترسیلات، مالیاتی تعاون اور پاکستانی تارکین وطن کا کلیدی کردار شامل ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی امریکہ ہے، جہاں لاکھوں پاکستانی تارکین وطن مقیم ہیں جو ملکی معیشت میں اہم زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔ ایسے میں یہ تصور کرنا کہ پاکستان امریکہ پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے، "غیر منطقی اور جھوٹ" ہے۔

حکام نے واضح کیا کہ پاکستان کا سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل "شاہین تھری" کی رینج 2,750 کلومیٹر ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی جوہری دفاعی حکمت عملی بھارت تک محدود ہے۔ پاکستان کا جوہری پروگرام صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور وہ ’قابلِ اعتبار کم از کم دفاعی صلاحیت‘ (Credible Minimum Deterrence) کے اصول پر قائم ہے۔

دوسری جانب ماہرین نے توجہ بھارت کے بڑھتے ہوئے جوہری اور عسکری عزائم کی جانب مبذول کرائی ہے۔ بھارت نہ صرف بین البراعظمی بیلسٹک میزائل "اگنی-5" بنا اور آزما چکا ہے بلکہ اس کے پاس دو فعال نیوکلیئر آبدوزیں اور دنیا کا سب سے بڑا غیرمحفوظ ایٹمی پروگرام بھی موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے اسٹریٹجک مقاصد محض پاکستان یا چین تک محدود نہیں بلکہ اس کی صلاحیتیں امریکہ جیسے ممالک کو بھی نشانہ بنا سکتی ہیں، اگر انتہا پسند بھارتی قیادت ایسا فیصلہ کرے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے اور عالمی جوہری معاہدوں اور عدم پھیلاؤ کے اصولوں کا پابند ہے، جبکہ بھارت کی جانب سے بڑھتی ہوئی جوہری طاقت اور جارحانہ اسلحہ سازی عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پھیلائی جانے والی بے بنیاد اطلاعات کا مقصد پاکستان اور امریکہ کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور تھنک ٹینکس کو چاہیے کہ وہ بھارتی پروپیگنڈے کے بجائے خطے کی اصل سٹریٹجک حقیقتوں پر توجہ دیں۔

Watch Live Public News