(ویب ڈیسک ) سندھ حکومت نے فوری سی سی آئی کا اجلاس بلانے کے لئے وفاق کو خط لکھ دیا ۔
محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، حریف سیزن میں فصلوں کی کاشت ممکن نہیں ۔
سندھ حکومت نے خط میں کہا ہے کہ ارسا کی طرف سے چولستان کینال کے لئے پانی کی دستیابی کا سرٹیفکٹ بھی خلاف قانون ہے،چولستان پروجیکٹ کے لئے ارسا کی طرف سے جاری کردہ سرٹیفکٹ (Flag D) درست نہیں۔
سندھ حکومت نے خط میں لکھا کہ سندھ نے اجلاس میں سخت احتجاج اور عدم اتفاقی (Flag B) ظاہر کی تھی ، واٹر اکارڈ 1991 کی پیرا (D) 14 اور 4 کی یہ فیصلہ قابل قبول نہیں، اس سے سندھ حصے پانی پر منفی اثرات پڑتے ہیں ، ارسا کے مطابق 1999سے 2023 تک سالانہ 13.7 فیصد کمی ہے۔
سندھ حکومت کا موقف ہے کہ سندھ کو پانی کی قلت کا سامنا ہے پنجاب کو نئے کینال کی منظوری دینا خلاف قانون ہے۔
سندھ حکومت نے سی سی آئی سے چولستان پروجیکٹ کے لئے پانی کی دستیابی کا ارسا منسوخ کرنے کا مطالبہ کردیا۔
خط میں کہا کہ جب تک کوئی پانی کی تقسیم پر اتفاق رائے پیدا نہ ہو سی سی آئی اس پروجیکٹ کو روکے منظوری ختم کرے۔