ویب ڈیسک: پاکستان پیپلز پارٹی نمبر گیم پوری کرنے کے بعد مشکل کا شکار، پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں تاحال اپنا وزیر اعظم کا امیدوار فائنل نہ کر سکی۔
پیپلز آزاد کشمیر میں وزارت عظمی کی دوڑ کیلئے مختلف دھڑے بن گئے۔ وزرات عظمی کیلئے چوہدری یاسین اور لطیف اکبر کا نام سرفہرست مگر تا حال فیصلہ نا ہو سکا۔ پیپلز پارٹی کے کئی ممبران اسمبلی چوہدری یاسین سے ناخوش لطیف اکبر کو بھی سب کا اعتماد حاصل نہیں۔ فیصل ممتاز راٹھور اور سردار یعقوب بھی وزرات عظمی کی دوڑ میں ڈسکس ہونے لگے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے وزرات عظمی کا امیدوار سامنے آنے پر تحریک عدم اعتماد جمع کروائی جائے گی۔ آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی وزیرِ اعظم کے استعفے یا تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے متوقع ہے۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں نمبر گیم کی بات کی جائے تو ارکان کی مجموعی تعداد 53 ہے۔ پیپلز پارٹی کو تحریکِ عدم اعتماد کے لیے 36 ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ آزاد کشمیر اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ابتدائی ارکان کی تعداد 17 تھی۔ بیرسٹر سلطان گروپ اور فارورڈ بلاک کے مجموعی طور پر 10 ارکان اب پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے بھی پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے قانون ساز اسمبلی میں 9 ارکان موجود ہیں۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے اتحاد کے بعد 36 ارکان تحریکِ عدم اعتماد کی حمایت میں موجود ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف اس وقت ایوان میں 4 ارکان کے ساتھ موجود ہے۔ مسلم کانفرنس اور جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کے ایوان میں ایک ایک رکن موجود ہیں۔
اوورسیز کی نشست پر منتخب ہونے والے ایک رکن اسمبلی نے استعفی دے رکھا ہے۔ چوہدری انوارالحق کے ساتھ فارورڈ بلاک میں مجموعی طور پر 10 ارکان موجود ہیں۔ عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ جمع ہونے کے تین دن گزرنے سے پہلے یا سات دن گزرنے کے بعد نہیں کی جا سکتی۔ اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہو تو ایسی ہی دوسری قرارداد چھ ماہ گزرنے سے پہلے دوبارہ پیش نہیں کی جا سکتی۔