ویب ڈیسک: اسلام آباد کے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے واضح کر دیا ہے کہ جن گاڑی مالکان نےموٹر وہیکل ٹیکس ادا نہیں کیا، ان کی رجسٹریشن 10 اکتوبر کے بعد منسوخ کر دی جائے گی۔
محکمے کے مطابق جن افراد کے ٹیکس 30 جون 2025 تک ادا نہیں ہوئے تھے، انہیں پہلے ہی ریڈ نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں اور ان کی رجسٹریشن معطل کر دی گئی ہے۔ اگر یہ بقایا جات مقررہ تاریخ تک ادا نہ کیے گئے تو رجسٹریشن ہمیشہ کے لیے کینسل کر دی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن بحال صرف اسی صورت میں ہوگی جب مالکان تمام بقایا جات کے ساتھ بھاری جرمانے بھی ادا کریں۔
اس مقصد کے لیے خصوصی کاؤنٹر قائم کیے گئے ہیں تاکہ لوگ آسانی سے اپنے واجبات ادا کر سکیں۔ یہ کارروائی موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے تحت کی جا رہی ہے، اور حکام نے واضح کیا ہے کہ مقررہ تاریخ کے بعد کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب اسلام آباد ٹریفک پولیس نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ 8 اکتوبر سے ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، بغیر لائسنس ڈرائیوروں کو گرفتار کیا جائے گا اور ان کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے جبکہ گاڑی پولیس اسٹیشن میں بند کی جائے گی۔
یہ احکامات سرکاری اور نجی، دونوں ڈرائیوروں پر لاگو ہوں گے۔
انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) علی ناصر رضوی نے حکم دیا ہے کہ اس کریک ڈاؤن پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور لائسنس نہ رکھنے والے ڈرائیور اور ان کی گاڑیاں کو حراست لیا جائے۔
یا درہے کہ موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 پاکستان میں ٹریفک قوانین کا ایک بنیادی قانون ہے جو موٹر گاڑیوں کے چلانے، رجسٹریشن، لائسنسنگ اور ان سے متعلق دیگر امور کو کنٹرول کرتا ہے.
یہ قانون سڑکوں پر حفاظت کو یقینی بنانے اور ٹریفک کی منظم روانی کے لیے بنایا گیا ہے، جس میں گاڑی چلانے کی عمر کی حدود، لائسنس حاصل کرنے کے طریقہ کار اور سڑک پر چلتے ہوئے دیگر قوانین کی پابندی شامل ہے.