ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اب میں ملک ہی نہیں دنیا بھی چلا رہا ہوں۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ”دی اٹلانٹک“ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی دوسری مدت صدارت پہلی کے مقابلے میں بہت مختلف ہے اور اب وہ نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا چلا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ پہلی بار مجھے دو کام کرنے تھے، ملک چلانا اور اپنی بقا کی جنگ لڑنا کیونکہ میرے اردگرد کرپٹ لوگ موجود تھے، اب دوسری بار میں ملک اور دنیا دونوں چلا رہا ہوں، جو کام میں کر رہا ہوں وہ نہایت سنجیدہ ہے، اس کے باوجود میں اسے کرتے ہوئے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔‘
انٹرویو سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر ایک پوسٹ میں طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ وہ محض یہ جاننے کے لیے اٹلانٹک کو انٹرویو دے رہے ہیں کہ آیا یہ میگزین سچ بولنے کی صلاحیت رکھتا بھی ہے یا نہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ دوسری مدت میں خود کو زیادہ طاقتور محسوس کر رہے ہیں، ان کی انتظامیہ اب وفادار افراد پر مشتمل ہے اور عدالتی نظام کے ساتھ ان کا رویہ بھی پہلے سے زیادہ جارحانہ ہو گیا ہے جو بعض اوقات ان کے ایجنڈے کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے۔
ٹرمپ کے پہلے 100 دن: امیگریشن پر سخت اقدامات
ٹرمپ انتظامیہ نے صدارت کے پہلے 100 دن مکمل ہونے کے موقع پر امیگریشن کے حوالے سے سخت پالیسیوں کو اجاگر کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے لان پر ایسے پوسٹرز لگائے گئے جن پر سنگین جرائم میں ملوث غیر ملکیوں کی تصاویر موجود تھیں، جو ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کا علامتی مظاہرہ تھا۔ ٹرمپ کے سرحدی مشیر ٹام ہومن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پر ریکارڈ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور یہ عمل ”مکمل رفتار سے“ جاری رہے گا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے بریفنگ میں کہا کہ انتظامیہ ”امریکی تاریخ میں سب سے بڑی ملک بدری مہم“ کی ابتدائی مراحل میں ہے۔ اب تک تقریباً 1 لاکھ 39 ہزار افراد کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔
منگل کو ٹرمپ اپنے پہلے 100 دن مکمل ہونے کی خوشی میں مشی گن کے میکومب کاؤنٹی میں ایک ریلی سے خطاب کریں گے، جو ڈیٹرائٹ کے شمال میں واقع ایک آٹو موٹیو مرکز ہے۔ جمعرات کو وہ یونیورسٹی آف الاباما میں ایک کانووکیشن خطاب بھی کریں گے۔