ویب ڈیسک: (علی زیدی) بینک آف انگلینڈ کے سابق گورنر مارک کارنی کینیڈا کے نئے وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔ وہ گذشتہ ماہ عبوری طور پر عہدہ سنبھالنے کے بعد اب عام انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیاب ہو چکے ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مارک کارنی نے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے استعفے کے بعد وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا، لیکن پھر فوری انتخابات کا اعلان کیا تاکہ عوامی مینڈیٹ حاصل کیا جا سکے۔
مارک کارنی وہ پہلے غیر برطانوی شہری تھے جنہیں 300 سالہ تاریخ میں بینک آف انگلینڈ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ وہ اس سے قبل بینک آف کینیڈا کے گورنر کے طور پر 2008 کے عالمی مالیاتی بحران سے ملک کو نکالنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
سیاست میں نیا چہرہ، لیکن بھاری کامیابی
اگرچہ کارنی نے پہلے کبھی کوئی سیاسی عہدہ نہیں سنبھالا، لیکن انہوں نے لبرل پارٹی کی قیادت کے لیے مارچ میں ہونے والے انتخاب میں واضح کامیابی حاصل کی۔ اب عام انتخابات میں بھی وہ عوامی تائید کے ساتھ منتخب ہو چکے ہیں۔
انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اپنی معاشی مہارت اور عالمی مالیاتی بحرانوں سے نمٹنے کے تجربے کو اجاگر کیا، اور خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ابتدائی زندگی
مارک کارنی کا تعلق کینیڈا کے شمال مغربی علاقے فورٹ اسمتھ سے ہے۔ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق آئرلینڈ سے ہے، جس کے باعث ان کے پاس آئرش اور کینیڈین شہریت تھی، تاہم اب وہ صرف کینیڈین شہریت رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، جہاں وہ آئس ہاکی ٹیم کا حصہ بھی رہے۔ بعد ازاں انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔
مالیاتی میدان میں خدمات
2003 میں انہوں نے بینک آف کینیڈا میں ڈپٹی گورنر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔ 2007 میں انہیں گورنر مقرر کیا گیا، اور وہ بحران کے دوران شرح سود میں کمی اور کاروبار کو سہارا دینے جیسے اہم فیصلوں کے ذریعے نمایاں رہے۔
بعد ازاں وہ بینک آف انگلینڈ کے سربراہ بنے اور مرکزی بینک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کئی اہم اصلاحات متعارف کرائیں، جن میں شفافیت، پالیسی کا تسلسل اور میڈیا سے مؤثر روابط شامل تھے۔
سیاست میں قدم رکھنے کی وجہ
ابتدائی طور پر انہوں نے سیاست میں آنے سے انکار کیا تھا، تاہم جسٹن ٹروڈو کے استعفے اور پارٹی میں داخلی بحران کے بعد انہوں نے لبرل پارٹی کی قیادت سنبھالی اور اب عوامی تائید سے وزیراعظم منتخب ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مہم کے دوران کہا: "میں بحرانوں سے نمٹنے کا تجربہ رکھتا ہوں، اور موجودہ حالات میں کینیڈا کو ایسے ہی رہنما کی ضرورت ہے۔"
داخلہ و خارجہ پالیسی پر مؤقف
مارک کارنی ماحول دوست پالیسیوں کے حامی ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلیوں کے خصوصی ایلچی بھی رہ چکے ہیں، اور "نیٹ زیرو" اتحاد کے بانیوں میں شامل ہیں۔ اگرچہ وہ کاربن ٹیکس کی حمایت کرتے رہے ہیں، لیکن وزیراعظم بنتے ہی انہوں نے اسے ختم کرنے کا اعلان کیا تاکہ عوام کو فوری ریلیف دیا جا سکے۔
انہوں نے کینیڈا کو "صاف اور روایتی توانائی کی سپر پاور" بنانے کا وژن پیش کیا ہے۔ امیگریشن پر وہ موجودہ اہداف پر نظرثانی کے حامی ہیں تاکہ ملک کے رہائشی اور طبی نظام پر دباؤ کم ہو۔
امریکا کے ساتھ تعلقات
کارنی کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا آزاد و منصفانہ تجارت کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کرتا، کینیڈا جوابی محصولات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو "توہین آمیز" قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کو عزت دیے بغیر مذاکرات ممکن نہیں۔