ویب ڈیسک: برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے سرکاری عشائیے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہلکے پھلکے انداز میں طنز کیا اور کہا کہ اگر برطانیہ نہ ہوتا تو امریکا میں لوگ فرانسیسی زبان بول رہے ہوتے۔
بادشاہ چارلس نے ٹرمپ کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ " آپ نے کہا تھا کہ اگر امریکا نہ ہوتا تو یورپ جرمن بول رہا ہوتا، تو میں بھی یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ اگر ہم نہ ہوتے تو آپ فرانسیسی بول رہے ہوتے۔" انہوں نے شمالی امریکا میں برطانوی اور فرانسیسی نوآبادیاتی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا کی آزادی سے قبل دونوں طاقتوں کے درمیان 250 سال تک مقابلہ جاری رہا۔
King Charles III:
— Clash Report (@clashreport) April 29, 2026
Indeed, you recently commented, Mr. President, that if it were not for the United States, European countries would be speaking German.
Dare I say that if it wasn't for us, you'd be speaking French. pic.twitter.com/86cQS14McX
واضح رہے کہ ٹرمپ نے جنوری میں ڈیووس اجلاس کے دوران کہا تھا کہ اگر دوسری جنگ عظیم میں امریکا مدد نہ کرتا تو یورپ کے لوگ جرمن اور جاپانی زبان بول رہے ہوتے۔