ویب ڈیسک: تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے ایک غیر معمولی فیصلے کے تحت معطل وزیراعظم پائی تونگ تران شینا وتری کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
عدالت کے مطابق شینا وتری نے کمبوڈیا کے سابق رہنما ہن سین کے ساتھ ہونے والی ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران قومی مفاد کے بجائے ذاتی تعلقات کو ترجیح دی، جس کے باعث وہ وزیراعظم کے منصب پر فائز رہنے کے اہل نہیں رہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اس لیک ہونے والی فون کال میں شینا وتری کو کمبوڈین رہنما ہن سین کو دوستانہ انداز میں ’’انکل‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے سنا گیا، جبکہ دوسری جانب وہ تھائی لینڈ کی آرمی کے ایک سینئر کمانڈر کو ڈانٹتے ہوئے انہیں اپنا ’’دشمن‘‘ قرار دیتی ہیں۔ اس رویے کو ملکی مفادات کے خلاف اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے عدالت نے فیصلہ سنایا کہ وہ اپنے منصب پر برقرار نہیں رہ سکتیں۔
عدالت کے نو رکنی بینچ نے متفقہ فیصلے میں لکھا کہ 39 سالہ شینا وتری نے وزیراعظم کے منصب پر رہتے ہوئے وہ اخلاقی معیارات پورے نہیں کیے جو اس اعلیٰ عہدے کے لیے ناگزیر ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ جون میں ہونے والی اس گفتگو کے دوران وہ قومی وقار اور ملکی سلامتی کے بجائے ذاتی ترجیحات کو مقدم لے کر چلیں۔
یہ فیصلہ نہ صرف تھائی لینڈ کی سیاست میں ایک بڑا جھٹکا ہے بلکہ یہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میں ملک کی سیاسی قیادت بار بار عدالتی کارروائیوں کے نتیجے میں اقتدار سے محروم ہوئی ہے۔ 2008 کے بعد شینا وتری پانچویں تھائی وزیراعظم ہیں جنہیں عدالتی حکم کے تحت عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ یکم جولائی کو آئینی عدالت نے شینا وتری کو ابتدائی طور پر معطل کر دیا تھا اور معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ اب عدالتی فیصلہ آنے کے بعد تھائی لینڈ ایک بار پھر سیاسی غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہوگیا ہے، جس کے اثرات ملکی معیشت اور خطے کی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔