ویب ڈیسک:امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آئندہ ماہ ہونے والے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے فلسطین کے صدر محمود عباس اور رہنماؤں کو ویزے دینے سے انکار کر دیا۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اس فیصلے کے تحت فلسطینی اتھارٹی (PA) اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے اعلیٰ حکام، بشمول صدر محمود عباس، کو ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پیگوٹ کا کہنا تھا کہ ’’ امریکی قوانین اور قومی سلامتی کے مفادات کے تحت وزیر خارجہ مارکو روبیو فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او کے اراکین کے ویزے مسترد اور منسوخ کر رہے ہیں۔‘‘

’’جب تک فلسطینی قیادت دہشت گردی کی مذمت نہیں کرتی، عالمی عدالت انصاف اور عالمی فوجداری عدالت میں قانونی کارروائیوں کو ترک نہیں کرتی اور یکطرفہ ریاستی تسلیم کی کوششوں سے باز نہیں آتی، انہیں امن کے شراکت دار کے طور پر سنجیدگی سے نہیں لیا جا سکتا۔‘‘
تاہم، اقوامِ متحدہ ہیڈکوارٹر معاہدے کے تحت فلسطینی مشن کو اجلاس میں شرکت کے لیے خصوصی استثنیٰ (waivers) دیا جائے گا۔
امریکہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او تعمیری مذاکرات کی طرف عملی اقدامات کریں تو واشنگٹن دوبارہ رابطوں کے لیے تیار ہو گا۔