ویب ڈیسک: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آج کل ہمارا ملک اتنا ٹرینڈ ہوچکا ہے کہ 8 ججز کے فیصلے کو 2 لوگ بیٹھ کے کہتے ہیں کہ غلط ہے جبکہ وزارت دفاع نے ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ آئینی بینچ میں پیش کردیا۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ سماعت کر رہا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہیں۔
وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آرمی ایکٹ کے تحت ملٹری ٹرائل کے طریقہ کار پر دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ جج ایڈووکیٹ جنرل حلف اٹھاتا ہے کہ غیر جانبداری کو برقرار رکھے گا، سپریم کورٹ اس سماعت میں ہر کیس کا انفرادی حیثیت سے جائزہ نہیں لے سکتی۔
انہوں نے استدلال کیا کہ سپریم کورٹ کے سامنے آرٹیکل 184 کی شق تین کا کیس عدالت کے سامنے نہیں ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ملٹری ٹرائل کس بنیاد پر چیلنج ہو سکتا ہے؟۔
وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ مجاز عدالت نہ ہو، بدنیتی پر مشتمل کارروائی چلے یا اختیار سماعت سے تجاوز ہو تو ٹرائل چیلنج ہو سکتا ہے،اگر ملٹری ٹرائل میں کوئی ملزم اقبال جرم کرلے تو اسے اسلامک قانون کے تحت رعایت ملتی ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ اقبال جرم تو مجسٹریٹ کے سامنے ہوتا ہے۔
وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ وہ معاملہ الگ ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ اگر ملٹری ٹرائل میں کوئی ملزم وکیل کی حیثیت نہ رکھتا ہو کیا اسے سرکاری خرچ پر وکیل دیا جاتا ہے۔
وکیل وزارت دفاع نے مؤقف اپنایا کہ وکیل کرنے کی حیثیت نہ رکھنے والے ملزم کو سرکاری خرچ پر وکیل دیا جاتا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عام طور پر تو ملزم عدالت کا فیورٹ چائلڈ ہوتا ہے،کیا ملٹری کورٹ میں بھی ملزم کو فیورٹ چائلڈ سمجھا جاتا ہے۔
وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے رولز کے تحت ملزم کو مکمل تحفظ دیا جاتا ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ میں نے بطور چیف جسٹس بلوچستان ملٹری کورٹس کے فیصلے کیخلاف اپیلیں سنی ہیں،ایسا نہیں ہوتا محض ملٹری کورٹس کے فیصلے میں صرف ایک سادے کاغذ پر لکھ دیا جائے کہ ملزم قصور وار ہے یا بے قصور ہے، جب رٹ میں ہائی کورٹس میں اپیل آتی ہے تو جی ایچ کیو پورا ریکارڈ فراہم کرتا ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ ریکارڈ میں پوری عدالتی کارروائی ہوتی ہے، جس میں شواہد سمیت پورا طریقہ کار درج ہوتا ہے، آپ 9 مئی کے مقدمات سے ہٹ کر ماضی کے ملٹری کورٹس کے فیصلے کی کچھ مثالیں بھی پیش کریں۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ غیر ملکی جاسوسوں کے علاوہ اگر کسی عام شہری کا ملٹری ٹرائل ہو تو کیا وہاں صحافیوں اور ملزم کے رشتہ داروں کو رسائی دی جاتی ہے۔
وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے جواب دیا کہ قانون میں رشتہ داروں اور صحافیوں کو رسائی کا ذکر تو ہے لیکن سیکیورٹی وجوہات کے سبب رسائی نہیں دی جاتی۔
جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اُٹھایا کہ اگر ٹرائل میں کوئی غلطی رہ گئی ہو تو کیا اپیل میں اس غلطی کی نشاندہی کی وجہ سے ملزم کو فائدہ ملتا ہے۔
خواجہ حارث نے جواب دیا کہ اپیل کا حق دیا گیا ہے اور اس کے تمام پہلو دیکھے جاتے ہیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا رٹ میں اتنا اختیار ہے کہ پروسیجر کو دیکھا جائے کہ اسے مکمل فالو کیا گیا یا نہیں۔
خواجہ حارث نے کہا کہ تمام پروسیجر فالو ہوتا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ رٹ میں کوئی ایسی اتھارٹی تو ہو جو پروسیجر کو دیکھ سکے اور اسکا جائزہ لے، زندگی کسی کی بھی ہو انتہائی اہم ہوتی ہے،جج پر بھی تو منحصر ہوتا ہے کہ وہ ٹرائل کیسے چلاتا ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ اپیل میں اپیل کنندہ کو کیا مکمل موقع دیا جاتا ہے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ رولز 63 میں ملٹری کورٹ کے پرائزئڈنگ آفسر کہ ذمہ داریاں دی گئی ہیں، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا اور شفاف ٹرائل کا موقع دینا اسکی ذمہ داری میں شامل ہے،حلف لینے کے بعد آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کرتے ہیں۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹ کے جو پرائزئینڈنگ افسر ہوتے ہیں، کیا وہ مکمل تجربہ کار ہوتے ہیں یا کسی کو بھی یہ ذمہ داری دے دی جاتی ہے۔
خواجہ حارث نے جواب دیا کہ تجربہ ضروری نہیں لیکن ملٹری ایکٹ پر عبور رکھتے ہوں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پہلے مجسٹریٹ اور کمشنر وغیرہ بھی ٹرائل کرتے تھے تو قتل کیس میں سزا دی جاتی تھی، جب کہا جاتا تھا کہ اس میں شہادتیں نہیں تو سزا کیسی،تو کہا جاتا قتل تو ہوا ہے،پروسیجر اور شفاف ٹرائل کا موقع تو فراہم ہونا چاہیے۔سیشن جج 20 سال کی محنت کے بعد سیشن جج بنتے ہیں۔
جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ ہم کوئی سوال کرتے ہیں تو آپ تھوڑی سی تفصیل تو بتائیں،میرا تعلق کے پی کے سے ہے سوال ءہ ہے کہ ان فیصلوں کا آنے عام شہریوں پر کیا اثر پڑے گا۔ہمیں ایک بےلگام معاشرے کا سامنا ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ دفاعی آفیسر کا کوئی تجربہ ہوتا ہے یا نہیں،جج،ایڈووکیٹ عدالت میں موجود ہوتا ہے کورٹ مارشل بھی کر سکتا ہے؟۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ جس طرح ہم ججز بیٹھے ہوتے ہیں اسی طرح سیٹنگ ہوتی ہے۔
لطیف کھوسہ کا نشست سے کھڑے ہو کر جواب کہا کہ ججز ایڈووکیٹ جج کے ساتھ بیٹھتا ہے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ جی جی ججز کے ساتھ ہی بیٹھتا ہے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے بھگتا ہوا ہے ہمیں پتا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ جب ٹرائل مکمل ہو جاتا ہے تو کیا کوئی سرٹیفیکیٹ دیا جاتا ہے۔
لطیف کھوسہ کے بار بار سیٹ پر کھڑے ہونے پر جسٹس امین الدین نے لطیف کھوسہ کو ٹوک دیا اور کہا کہ کھوسہ صاحب یہ کوئی طریقہ نہیں ہے آپ اپنی باری پر بات کیجیگا۔
جسٹس جمال خان مندوخی نے ریمار کس دیئے کہ کیا ان کیسز کا کوئی ڈاکیومنٹ دیا جاتا ہے؟۔
خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری ٹرائل کرنے والوں کو اسکی کوئی خاص ٹریننگ کی ضرورت نہیں ہوتی،انہوں نے صرف حقائق دیکھنے ہوتے ہیں کہ یہ قصوروار ہے کہ نہیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آجکل ہمارا ملک اتنا ٹرینڈ ہوچکا ہے کہ 8 ججز کے فیصلے کو 2 لوگ بیٹھ کے کہتے ہیں کہ غلط ہے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ سوشل میڈیا کی تو بات نہ کریں وہاں کیا کچھ نہیں ہو رہا،سوشل میڈیا پر کچھ لوگ بیٹھ کر اپنے آپ کو سب کچھ سمجھتے ہیں،ان کا کام ہے انکو کرنے دیں ہمیں انکی ضرورت نہیں۔
جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ افسوس ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے تاثر دیا جاتا ہے کہ جیسے ہم کسی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں،میرا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے میں ملٹری ٹرائل پر اس کے اثرات کی وجہ سے سوال کرتی ہوں، لیکن افسوس میرے ان سوالات کی وجہ سے مجھے سیاسی پارٹی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا۔
وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تووزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے سفید کاغذی لفافوں میں ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ آئینی بنچ میں پیش کردیا، ملٹری ٹرائل کی 7 کاپیاں آئینی بنچ کے 7 ججز کو دی گئیں۔
وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت ٹرائل کا طریقہ کار دیکھ لے،ٹرائل سے قبل پوچھا گیا کسی کو لیفٹیننٹ کرنل عمار احمد پر کوئی اعتراض تو نہیں، کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ یہ ریکارڈ تو اپیل میں دیکھا جانا ہے،ہمارے لیے اپیل میں اس ریکارڈ کا جائزہ لینا مناسب نہیں،ہم ٹرائل کو متاثر نہیں ہونگے دیں گے۔
آئینی بنچ کے 6 ججز نے ٹرائل کا ریکارڈ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو واپس کردیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریکارڈ دیکھنے کے بعد واپس کردیا۔
جسٹس مسرت ہلالی نے پیش کردہ ریکارڈ کا جائزہ لیا۔
خواجہ حارث نے آرٹیکل 14 کا حوالہ دیا اور کہا کہ جسٹس عائشہ ملک نے اپنی ججمنٹ میں ایک پوائنٹ سے اختلاف کیا ہے۔
جسٹسں مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی آر میں تمام سیکشنز پی پی سی کے نیچے آتی ہیں۔
خواجہ حارث نے کہا کہ ایف آئی آر میں ان صاحب کا نام میٹر نہیں کرتا۔
جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ وہ کہہ رہا ہےکہ وہ چشم دید گواہ بھی نہیں ہیں۔
خواجہ حارث نے کہا کہ 9 ملزمان میں سے 4 چشم دید گواہ ہیں، آپ اتنی تفصیل سے ملٹری کورٹس کی دستاویزات دیکھ رہی ہیں اور ایسے سوالات اٹھا رہی ہیں کل کو اپیل آپ کے پاس آنی ہیں، آپ کو کیس کے میرٹ سے متعلق سوال نہیں پوچھنے چاہییں کہ یہ معاملہ ابھی آپ کے پاس اپیل میں آنا باقی ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ میرے ذہن میں جو سوال بنتا ہے وہ میں کروں گی کسی کو اچھا لگے یا برا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ملٹری ٹرائل کرنے والا جج تو اتھارٹیز کے ماتحت ہوتا ہے۔
وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کوئی شواہد ہیں تو بات کریں، محض تاثر پر اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ نہ مجھے کسی پر کوئی شک ہے نہ اعتراض ہے، سوال یہ ہے کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کرنے والے کون ہیں، اس لیےپوچھا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی جانب سے پیش کردہ ریکارڈ کا جائزہ لیا، میں بہت تفصیل میں نہیں گیا، 9 مئی واقعات میں بظاہر سیکیورٹی آف اسٹیٹ کا معاملہ نہیں لگتا، 9 مئی واقعات کے ملزمان کا ملٹری ٹرائل بہت تفصیل سے چلایا گیا، کیا یہ ممکن نہیں یہ تمام ریکارڈ پبلک کر دیا جائے تاکہ پبلک ان ملزمان کی مذمت کر سکے، 9 مئی واقعات کے ملزمان نے جو کارنامے سرانجام دیے وہ عوام میں بے نقاب ہونے چاہیں۔
خواجہ حارث نے کہا کہ یہ تو اتھارٹیز نے طے کرنا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا آرٹیکل 175 کے تحت ملٹری کورٹس کے قیام کیلئے گنجائش رکھی گئی ہے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ اگر عدالت اس طرف جائے گی تو اب تک ملٹری کورٹس کے قیام سے متعلق جتنے بھی فیصلے دیے گئے ان پر نظرثانی کرنا پڑے گی،آئین میں آئین و قانون کے تحت عدالتوں کے قیام کا ذکر ہے، بہت سارے ممالک میں ملٹری کورٹس قائم ہوئیں۔
جسٹس جمال خان نے ریمارکس دیے کہ نارکوٹکس کا پورا کنٹرول فوج کے پاس ہے، نارکوٹکس میں جب کسی ملزم کا ٹرائل چلانا ہوتا ہے تو متعلقہ چیف جسٹس سے سیشن جج مانگا جاتا ہے، کیا یہاں بھی ملٹری کورٹس کیلئے ایسا کیا جاسکتا ہے۔
خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ تمام عدالتی فیصلوں میں ملٹری کورٹس کو آرٹیکل 175 سے الگ رکھا گیا ہے،آرمی ایکٹ کو بنیادی حقوق کی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
سربراہ آئینی بنچ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ صاحب کل تک دلائل مکمل کر لیں گے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ میں کل 11 بجے تک دلائل مکمل کر لوں گا۔
دوران سماعت آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان اور لطیف کھوسہ میں اہم مکالمہ ہوا۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ کیا کل ہماری بھی باری آئے گی۔
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ آپ نے تو بیٹھے بیٹھے ہی آدھے کیس کے دلائل دیدیے۔
شہدا فاؤنڈیشن اور حکومت بلوچستان کے وکلاء نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل اپنا لیے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں درج سزاؤں پر سول کورٹ میں ٹرائل چل سکتا ہے،کیا آپکو سول کورٹس پر اعتماد نہیں، یہ کیسز سول کورٹس میں کیوں نہیں لیکر گئے۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر ملٹری ٹرائل اتنا ہی اچھا ہے تو پھر سارے کسیز ان کو ہی بجھوادیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے آئینی بنچ کو ہدایت کی کہ کل بار ایسوسی ایشنز کے وکلا تیاری کے ساتھ آئیں۔
بعد ازاں کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔