ویب ڈیسک: ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر حامد رضا حاجی بابائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی کو ملکی ایٹمی تنصیبات کے دورے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس انکشاف کے بعد کیا گیا ہے کہ ایرانی ایٹمی تنصیبات سے متعلق حساس معلومات اسرائیلی ذرائع سے حاصل کردہ دستاویزات میں موجود تھیں۔ حاجی بابائی نے مزید وضاحت کی کہ اب IAEA کو ان تنصیبات پر نگرانی کے کیمرے نصب کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گروسی کے ممکنہ دورے کو غیر ضروری اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دورے کا اب کوئی فائدہ نہیں۔
واضح رہے کہ ایرانی پارلیمنٹ پہلے ہی IAEA کے ساتھ تعاون ختم کرنے کی منظوری دے چکی ہے، اور پارلیمانی اسپیکر رافیل گروسی کو اسرائیل کا "محافظ" اور "غلام" قرار دے چکے ہیں۔
یاد رہے کہ رافیل گروسی نے حالیہ امریکی حملوں کے بعد ایران کی ایٹمی تنصیبات کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔