(ویب ڈیسک ) سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ہم نے نہ اس حکومت کو چلنے دیا تھا نہ اس حکومت کو چلنے دیں گے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے شائع اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کی طرح 2024 کے الیکشن کو بھی تسلیم نہیں کیا، یہ الیکشن بھی دھاندلی زدہ ہیں۔
سربراہ جے یو آئی(ف) نے کہا کہ ہم ملک میں آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں، بٹگرام اجتماع سے ثابت ہوگیا عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم آگے بڑھ کر ملک میں انقلاب برپا کردیں گے، حکومت کے خلاف کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حکومتیں نہیں چلیں گی، عوام کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کیا جائے، جے یو آئی کے کارکن میدان عمل میں ہوں گے، کامیابی مقدر بنے گی۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملک کی سلامتی کو مقدم رکھنے والوں کو کیوں مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے نوٹس پر اسلام آباد پر قبضہ کرلیں، لیکن ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ ملک کے حالات اس حد تک نہ جائیں۔
آپ آئین و قانون کے رکھوالوں کو کیوں مجبور کررہے ہیں کہ وہ
— Jamiat Social Media Team (@JamiatPage_1) June 29, 2025
ایک ہفتے میں اسلام آباد پر قبضہ کر سکتے ہیں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان مدظلہ کا بٹگرام میں منعقد شعار اسلام کانفرنس سے خطاب#JUIBattagramJalsa pic.twitter.com/otcLBy2j60
انہوں نے کہا کہ طاقت ور قوتیں اپنی طاقت پر اتنا بھی بھروسہ نہ کریں کہ بس وہ آخری قوت ہے اور انہیں کوئی قوت چیلنج نہیں کرسکے گی۔ ہم بھرپور عوامی قوت کے ساتھ سیاسی جنگ لڑیں گے، قانون وآئین کی پیروری کرتے ہوئے اس ملک کے نظام کو تبدیل کریں گے۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام کا فیصلہ غلط اور یکطرفہ ہے جس پر قبائل ناراض ہیں، تم نے فاٹا کے عوام اور کروڑوں عوام کے مستقبل کا فیصلہ ان کی مرضی کے بغیر کیا تو آج پچھتانا تو پڑے گا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ غلط فیصلوں کے غلط نتائج ہوا کرتے ہیں، جب ہم ڈٹ گئے تو ہمیں راضی کرنے کے لیے یہاں تک کہہ دیا، اگر ہم نے فاٹا کا انضمام نہ کیا تو امریکا ناراض ہوجائے گا، جب اس ملک کو امریکا کی رضامندی سے چلاتے ہو تو پھر جمہوریت، عوام اور اسلام کی بات کیوں کرتے ہو۔