ویب ڈیسک: اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ میں کارروائی کے دوران حماس کے عسکری رہنما محمد سنوار کو شہید کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بدھ کے روز پارلیمنٹ سے خطاب میں اعلان کیا کہ اسرائیلی افواج نے حماس کے موجودہ اہم ترین رہنما محمد سنوار کو ایک آپریشن کے دوران نشانہ بنایا۔ محمد سنوار، حماس کے سابق سربراہ یحییٰ سنوار کے چھوٹے بھائی تھے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، 13 مئی کو خان یونس میں واقع یورپی اسپتال کے نزدیک اسرائیلی فضائی حملے میں محمد سنوار کو ہدف بنایا گیا۔ تاہم، تاحال حماس کی جانب سے ان کی شہادت کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے اب تک حماس کی قیادت کو متعدد بار نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ، عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے کمانڈر محمد ضیف اور سابق سربراہ یحییٰ سنوار کی شہادت کے دعوے شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محمد سنوار نے ممکنہ طور پر محمد ضیف کی ہلاکت کے بعد القسام بریگیڈ کی قیادت سنبھال لی تھی۔ چونکہ حماس کی عسکری قیادت بالعموم خفیہ رکھی جاتی ہے، اس لیے ایسے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق دشوار ہوتی ہے۔
محمد سنوار کون تھے؟
رپورٹس کے مطابق، 49 سالہ محمد سنوار نے 1980 کی دہائی کے اواخر میں حماس میں شمولیت اختیار کی، اور جلد ہی عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے رکن بن گئے۔ انہوں نے 2005 تک ترقی کرتے ہوئے خان یونس بریگیڈ کی کمان سنبھالی۔
یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ القسام بریگیڈز کے سابق سربراہ محمد ضیف عرف ابو خالد کے قریبی ساتھی تھے، اور 7 اکتوبر 2023 کے اسرائیل پر حملے کی منصوبہ بندی میں بھی ان کا کردار اہم تھا۔