بھارت کو امریکا کی تنبیہ: خطے میں امن و استحکام کو خطرے میں نہ ڈالیں

بھارت کو امریکا کی تنبیہ: خطے میں امن و استحکام کو خطرے میں نہ ڈالیں
کیپشن: بھارت کو امریکا کی تنبیہ: خطے میں امن و استحکام کو خطرے میں نہ ڈالیں

ویب ڈیسک: امریکا نے ایک بار پھر بھارت کو خطے میں جارحانہ رویے سے باز رہنے کا واضح پیغام دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، بھارت کے سیکرٹری خارجہ شری وکرم مصری نے اپنے حالیہ دورۂ واشنگٹن کے دوران امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لنڈاو سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق، اس ملاقات میں امریکی حکام نے بھارت پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنے میں سنجیدگی دکھائے۔

یہ سفارتی سرگرمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 6 مئی کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں کی ہلاکت پر بھارت نے پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہوئے سرحد پار جارحیت کی تھی۔ پاکستان نے اس حملے کا مؤثر جواب دیا، جس میں بھارتی فضائیہ کے متعدد طیارے، ایک ڈرون اور ایس-400 دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ اس جوابی کارروائی میں اُن بھارتی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں سے پاکستان پر میزائل فائر کیے گئے تھے۔

ان کشیدگیوں کے بعد امریکی مداخلت سے دونوں ممالک کے درمیان سیزفائر طے پایا، جو اب تک قائم ہے، مگر بھارتی قیادت کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ حالیہ بیان میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان مخالف سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اگر پاکستانی روٹی نہ کھائیں، تو میری گولی موجود ہے"۔

شری وکرم مصری 27 مئی کو تین روزہ سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچے جہاں بدھ کی شام ان کی نائب امریکی وزیر خارجہ سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

تاہم باخبر ذرائع کے مطابق، امریکی قیادت نے اس ملاقات میں بھارت کو خبردار بھی کیا کہ وہ کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت سے گریز کرے اور علاقائی امن کو نقصان نہ پہنچائے۔

اس کے علاوہ امریکا نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ تجارتی منڈیوں تک رسائی کو شفاف بنایا جائے اور مائیگریشن و انسداد منشیات کے معاملات میں تعاون کو فروغ دیا جائے۔

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات کے دوران بھی بھارت نے امریکا سے ڈی پورٹ کیے گئے غیر قانونی بھارتی شہریوں کو واپس لینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

پاکستان کی سفارتی کامیابی

دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارت اور امریکا کی اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے امریکی محکمہ خارجہ کے اعلامیے میں پاکستان کا ذکر تک نہیں کیا گیا، جسے عالمی سطح پر پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

Watch Live Public News