ویب ڈیسک: حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ پیٹرولیم لیوی کو 100 روپے تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، اب فی لیٹر پیٹرول پر عوام سے 78 روپے 2 پیسے کے بجائے پورے 100 روپے لیوی یعنی ٹیکس وصول کیا جائے گا، اس ضمن میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی میں اضافے سے پیٹرول کی قیمت میں 20 روپے فی لیٹر سے زائد کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
ذرائع ابلاغ کےمطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل یکم جون سے کیا جائےگا ، اس بار قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کو 100 روپے تک بڑھائے جانے کا امکان ہے، حکومت ہر 15 روز بعد پیٹرول کی قیمت میں ردوبدل کا فیصلہ کرتی ہے اور ایک مرتبہ زیادہ سے زیادہ 5 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی کا اضافہ کیا جاتا رہا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق خام تیل کی قیمت میں کمی، ڈالر کی قیمت میں اضافے اور ممکنہ طور پر پیٹرولیم لیوی کے بڑھنے کے پیش نظر اس وقت پیٹرول کی قیمت میں 4 سے 6 روپے کے اضافے کا امکان ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا حتمی فیصلہ وزارت خزانہ اوگرا کی سمری کی روشنی میں 31 مئی کی شب کرے گی۔
یاد رہے کہ 15 مئی کو جب پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے کی کمی کی گئی تھی اس وقت ڈالر کی قیمت 281.3 روپے تھی جو کہ اب 282.95 روپے ہو گئی ہے جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت اس وقت 64.53 ڈالر فی بیرل تھی جو کہ اب 63.8 ڈالر ہو گئی ہے۔
گزشتہ مالی سال 24-2023 میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے ایک ہزار 19 ارب روپے وصول کیے گئے تھے جبکہ مالی سال 23-2022 میں اس مد میں 580 ارب روپے وصول کیے گئے تھے، حکومت نے آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ کے لیے پیٹرولیم لیوی کی وصولی کا تخمینہ ایک ہزار 311 ارب لگایا ہے جبکہ رواں مالی سال میں ایک ہزار 117 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔