ویب ڈیسک: پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا سابقہ دورہ چین میں چینی وزیر خارجہ کی خواہش پر ہم نے سہ فریقی اجلاس کابل میں منعقد کیا، 2021 سے اب تک ہمارے 4 ہزار سے زائد جوان دہشت گرد حملوں میں شہید ہو چکے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جانب سے ہمیں 2021 سے ابتک کسی بہتری کے آثار دکھائی نہیں دیے، ای یو نے اپنے اعلامیہ میں مقبوضہ کشمیر کے ذکر, غزہ امن معاہدے اور افغان مہاجرین کی دہائیوں تک میزبانی کا ذکر کیا، ہم نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کو بتایا کہ ہم افغان مہاجرین کو مکمل عزت و احترام سے واپس لوٹا رہے ہیں، ای یو اور پاکستان کی جانب سے اعلامیہ میں لکھا گیا کہ افغان انتظامیہ کو فریقین سے تعمیری مذاکرات کرنے چاہیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دورہ برسلز میں امیگریشن کے قونصلر و رکن پارلیمان میگنس برنر اے تفصیلی ملاقات ہوئی، اس ملاقات میں پاکستانی غیر ملکی تارکین وطن پر تفصیلی بات ہوئی، جوزف سکیلا سے ملاقات میں بیرون ممالک سے آنے والے افراد کی قانونی آمد پر تبادلہ خیال ہوا۔
کئی برسوں بعد نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے بھی ملاقات ہوئی، نیٹو کے ساتھ اس اجلاس کا بنیادی مقصد سیاسی رابطہ تھا، جی ایس پی پلس پر 27 کنوینشنز ہیں، ہمارا ففتھ تیویوو ابھی ہونا ہے، اس پر ٹیم کراچی پہنچ چکی ہے، جی ایس پی پلس پر ای یو کے 100 سے زائد سوالات آئے تھے، میں نے یورپی یونین کو بتایا کہ ریویو کی واپسی کے بعد ان کا جی ایس پی پلس پر تیویوو بہت مثبت ہو گا۔
2027 میں جی ایس پی پلس کی نئی تجدید ہو گی، اس پر نیا فارمیٹ متعارف کرایا جا رہا ہے، ہماری ملاقاتیں انتہائی کامیاب رہیں ، 2021 میں انڈو پیسفک فورم اجلاس میں 64 ممالک شریک ہوئے تھے، اس پر میں نے مختلف امور بشمول میری ٹائم افئیرز پر پاکستان کا موقف پیش کیا، ہم نے زور دیا کہ ہم بلاک پالیٹکس, یونی لیٹرلازم کی مخالفت اقر کثیر الجہت کی حمایت کرتے ہیں۔
گذشتہ 10-12 دن کافی مصروف تھے، ماسکو, برسلز, بحرین کے اہم دورے تھے، سب سے پہلا دورہ ماسکو کا تھا، ماسکو میں ایس سی او اور سربراہان حکومت کونسل کا اجلاس تھا، وزیر اعظم شہباز شریف نے وعدہ کیا کہ میں سربراہان حکومت میں پاکستان کی نمائندگی کروں، ماسکو میں خوشگوار ملاقاتیں ہوئیں، ایس سی او کی نیرو فارمیٹ اور دوسری ایکسٹنڈڈ اجلاس تھے۔
دونوں اجلاسوں میں باہمی منسلکی, اقتصادی و تجارتی تعاون اور دیگر امور پر پاکستانی موقف سامنے رکھا، میں نے اراکین کو باہمی لین دین کے لیے مقامی کرنسیوں کے استمال کی تجویز دی، ای سی او بینک کی تحویز بھی پیش کی۔
ماسکو میں سربراہان حکومت اجلاس کے بعد 11 فیصلے منظور ہوئے، اس عمل میں تمام شریک سربراہان کی 18 نومبر کو روسی صدر سے ملاقات ہوئی، میں نے ان انکے شیڈیول کے مطابق دورپاکستان کے دعوت نامے کی یاد دہانی کرائی۔
نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دورہ روس میں وزارت خارجہ نے روسی انتظامیہ سےملاقاتوں کا خط پہلے ہی بھیج دیا تھا، اس وجہ سے روسی وزیر خارجہ سرگئی, نائب وزیر اعظم الیکسی اوورچک سے علیحدہ علیحدہ باہمی ملاقاتیں ہوئیں۔
بدقسمتی سے ماسکو میں اس وقت ہمارے سفیر کورونا میں مبتلا تھے، تاہم اس کے باوجود دفتر خارجہ اور ماسکو ٹیم بہت فعال رہی، روس میں ایس سی او, یورو ایشین خطے کے ساتھ انتہائی مثبت ملاقاتیں رہیں ۔
19 نومبر کو ہم برسلز, بیلجئم پہنچے اور وہاں تعمیری ملاقاتیں کیں، کئی برس کے بعد یورپی یونین کے صدر کے ساتھ کسی پاکستانی نے ملاقات کی، 2021 کے بعد سے 5 برس سے پاکستان ای یو مذاکرات التواء کا شکار تھے،اس دورے سے ہمارے یورپی یونین سے رابطوں میں موجود کمی دور ہوئی۔
ساتواں اسٹریٹیجک ڈائیلاگ انتہائی اہم رہا ، اس نے ای یوکے ساتھ ہمارے تعلقات کے تمام شعبوں تجارت, اقتصادی امقر, جی ایس پی پلس, افغانستان, سیکیورٹی, بھارت اور دیگر معاملات ہر بات چیت کی، ہم نے کھل کر افغانستان سے پاکستان پر حملوں پر تفصیلی بات چیت کی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعہ اور پاک بھارت جنگ کے بعد کئی مرتبہ کییا کلاس سے رابطہ ہوا تھا ، انہیں بتایا کہ میں نے افغانستان کا ذاتی دورہ کیا اور افغان قیادت سے تمام موضوعات پر بات چیت کی، میں نے بتایا کہ افغانستان میں ہونے والے تمام فیصلوں اور وعدوں کو کابل میں نے ہی دنیا کے سامنے رکھا۔
میں نے کابل میں واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے یا تو ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے۔