ویب ڈیسک: اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان سے جیل سہولیات واپس لینے کے خلاف دائر درخواست پر سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری قانون، ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب اورسپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فریقین مجاز افسر مقرر کریں جو عدالت میں متعلقہ ریکارڈ اور تحریری جواب کے ساتھ پیش ہوں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے نورین نیازی کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے شعیب شاہین ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیارکیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں بی کلاس کی سہولیات واپس لی گئیں جس کے وہ حقدار ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اخبار، ٹی وی، ایکسرسائز کی سہولت واپس لے لی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے سیل کی بجلی بھی بند کی گئی، بچوں سے فون پر بات بھی نہیں کرائی جا رہی، یہ تمام سہولیات بغیر کسی وجہ کے غیر قانونی طور پر بند کی گئیں جو عدالتی احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے، قید کی سزا کا مطلب شخصی آزادی پر پابندی ہے، قید کا مطلب بنیادی انسانی حقوق سے انکار نہیں۔
عدالت نے پٹیشنر کے وکیل کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کے جیل سہولیات سے متعلق عدالتی احکامات ریکارڈ پر لانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ وہ متفرق درخواست کے ذریعے عدالتی آرڈرز کو ریکارڈ پر لا سکتے ہیں۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اکتوبر تک رپورٹ طلب کر لی۔
عدالت نے فریقین کو عدالت میں متعلقہ ریکارڈ کیساتھ پیش ہونے کے لیے مجاز افسر مقرر کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔مجاز افسر آئندہ سماعت پر تحریری جواب اور رپورٹ کیساتھ عدالت میں پیش ہو۔
یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی نے شعیب شاہین ایڈوکیٹ کے ذریعے درخواست جمع کرائی تھی۔