ویب ڈیسک: ایشیا کپ 2025 کا فائنل تو بھارت جیت گیا، لیکن ٹرافی دینے کی تقریب ایک بڑے تنازع کا شکار ہو گئی۔ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والی ایوارڈ تقریب کے دوران بھارتی ٹیم صدر ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے پر تیار نہ ہوئی جس کے بعد انتظامیہ نے ٹرافی اور چیمپئن شپ بورڈ واپس منگوا لیا۔
میچ ختم ہونے کے بعد بھارتی کھلاڑی اسٹیڈیم میں ٹرافی لینے کے لیے کھڑے رہے لیکن کئی منٹ گزرنے کے باوجود ٹرافی اسٹیج پر نہیں لائی گئی۔ ذرائع کے مطابق بھارتی ٹیم کے مسلسل انکار کے باعث اب بھارتی ٹیم کو ٹرافی ملنے کا امکان بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس دوران اسٹیڈیم کی لائٹس تک بند کر دی گئیں لیکن بھارتی ٹیم گراؤنڈ میں موجود رہی اور اصرار کرتی رہی کہ وہ ٹرافی لے کر جائیں گے۔
تقریب کے میزبان سائمن ڈول نے براہِ راست نشریات میں انکشاف کیا کہ انہیں اے سی سی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بھارتی ٹیم آج ٹرافی وصول نہیں کرے گی۔ نتیجتاً انتظامیہ نے نہ صرف ٹرافی بلکہ کھلاڑیوں کے میڈلز اور چیمپئن کا بورڈ بھی واپس لے لیا۔ بھارتی ٹیم نے بالآخر بغیر ٹرافی اور میڈلز کے ہی گروپ فوٹو بنوایا۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب بھارتی بورڈ (بی سی سی آئی) کی ہدایت پر بھارتی کھلاڑیوں نے فائنل کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے اور صدر اے سی سی محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا۔ محسن نقوی بھی اپنے فیصلے پر قائم رہے کہ ٹرافی صرف صدر اے سی سی کے ہاتھوں ہی دی جائے گی، کسی اور ذریعے سے نہیں۔
واضح رہے کہ ایشیا کپ کے دوران بھارتی ٹیم کا رویہ پہلے ہی تنقید کی زد میں تھا۔ فائنل سے قبل بھارتی کپتان نے پاکستانی کپتان کے ساتھ روایتی پری میچ فوٹو سیشن میں شریک ہونے سے انکار کیا تھا، جو کرکٹ میں اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف کرکٹ کی تاریخ میں ایک منفرد تنازع ہے بلکہ کھیل کی ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔