ویب ڈیسک: ایشیا کپ 2025 کے فائنل میں کامیابی کے باوجود بھارتی کرکٹ ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے چیئرمین اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سربراہ محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر کے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
دبئی میں ہونے والی تقریب میں بھارتی کھلاڑیوں نے صرف انفرادی انعامات وصول کیے اور اسٹیج سے فوراً ہٹ گئے، جبکہ ٹرافی انتظامیہ اپنے ساتھ واپس لے گئی۔ یہ فیصلہ بھارتی بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ( بی سی سی آئی) کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔
ٹرافی پر فیصلہ آئی سی سی اجلاس میں
بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری دیوا جیت سائیکیا کے مطابق یہ معاملہ آئندہ آئی سی سی اجلاس میں اٹھایا جائے گا، جو نومبر کے پہلے ہفتے میں دبئی میں شیڈول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرائیں گے اور ٹرافی کے مستقبل کا فیصلہ یا تو اے سی سی یا ثالثی کے ذریعے کیا جائے گا۔
پہلے سے طے شدہ انکار
بھارتی میڈیا کے مطابق ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادو نے 17 ستمبر کو ہی اے سی سی کو مطلع کر دیا تھا کہ اگر بھارت ٹورنامنٹ جیتتا ہے تو وہ محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کریں گے۔ ان کا مؤقف تھا کہ پریزنٹیشن میں محسن نقوی کی موجودگی بھارتی ٹیم کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
کرکٹ میں سیاست پر تنقید
تجزیہ کاروں نے بھارت کے اس رویے کو کھیل کے جذبے کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹ میں ایسی کھلی سیاست پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی، جیسی اس ایونٹ میں نظر آئی۔
یاد رہے کہ فائنل سے قبل بھی پاکستان اور بھارت کے کپتانوں کا روایتی مشترکہ ٹرافی شوٹ منعقد نہ ہوسکا اور بھارتی کپتان کی غیر حاضری کے باعث پاکستانی کپتان سلمان علی آغا کو اکیلے ہی ٹرافی کے ساتھ فوٹو شوٹ کرانا پڑا۔