حمزہ شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب بن گئے، حلف اٹھا لیا

حمزہ شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب بن گئے، حلف اٹھا لیا
لاہور: ( پبلک نیوز) مسلم لیگ ن کے نائب صدر حمزہ شہباز شریف نے بالاخر بطور وزیراعلیٰ پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ ان کا حلف سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے لیا۔ خیال رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے سپیکر قومی اسمبلی کو حکم دیا تھا کہ وہ حمزہ شہباز شریف سے وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں۔ یہ محفوظ فیصلہ جسٹس جواد حسن نے سنایا تھا۔ گذشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز شریف کی بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف برداری کیلئے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ جسٹس جواد حسن نے درخواست پر سماعت کی۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن کا کہنا تھا کہ عدالت کا وقت گزر چکا ہے، اس درخواست کو کیسے سنا جا سکتا ہے۔ اس پر ن لیگ کے وکیل اشتر اوصاف علی نے کہا تھا کہ بنیادی حقوق کے لئے وقت بڑھایا جا سکتا ہے کیونکہ یہ عدلیہ کے رولز میں درج ہے۔ جسٹس جواد حسن کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ جج کا کام تو قانون کے مطابق کام کرنا ہے۔ میں نے تو ابھی سب کچھ پڑھنا ہے۔ بتایا جائے کہ اس پر چیف جسٹس نے کیا حکم دیا تھا ؟ ایڈووکیٹ اشتر اوصاف علی کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ کا حلف 28 اپریل تک کرایا جائے۔ لیکن حلف نہ لے کر آئین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ اس پر معزز جج جسٹس جواد حسن نے کہا کہ ہائیکورٹ کے حکم کو نہ مانے، اس کی کسی کی جرات نہیں ہونی چاہیے وکیل اشتر اوصاف علی کا عدالت سے کہنا تھا کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ پاکستانی آئین پر عمل نہیں کر رہے۔ اس پر جسٹس جواد حسن نے کہا کہ مسلم لیگ ن توہین عدالت کا کیس کیوں نہیں کرتی؟ اس پر مسلم لیگ ن کے وکیل نے کہا کہ ایسا ہم کر سکتے ہیں لیکن میرے موکل حمزہ شہباز شریف نے ابھی صرف یہی معاملہ عدالت کے سامنے رکھنے کا کہا ہے۔ عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کا منتخب نمائندہ ابھی تک کام نہیں کر رہا۔ لاہور ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ مجھے آئین میں راستہ نظر آئے تو میں چل پڑتا ہوں۔ یہ عدالت کی عزت کا سوال ہے۔ عدالت کے فیصلے نہیں مانے جا رہے۔ وکیل اشتر اوصاف نے کہا کہ عدالت کورٹ نے سابق وزیراعظم کو توہین عدالت میں دو منٹس کی سزا دی تھی۔ اس سزا کے بعد ان کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ اس معاملے میں حکومت کا کیا موقف ہے؟ حکومت کیا سوچ رہی ہے؟ وزیراعلیٰ کے انتخاب کو تو چیلنج نہیں کیا گیا، عدالت کو صرف 30 منٹس سے زیادہ نہیں چاہیں۔ یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کا حلف: فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر اعتراض لگ گیا خیال رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں سپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے وزیراعلیٰ کا حلف کرانے کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر اعتراض لگا گیا تھا۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے فیصلے کی مصدقہ نقول لف نہ کرنے کا اعتراض عائد کیا گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے وزیراعلیٰ پنجاب کا حلف کرانے کے فیصلے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کی گئی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ میں یہ اپیل تحریک انصاف کے 17 اراکین نے اظہر صدیق اور رانا مدثر عمر ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی ہے۔ انٹرا کورٹ اپیل میں وفاقی اور صوبائی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔ اپیل کنندگان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن پر ہاؤس میں مسلم لیگ ن نے پولیس کو داخل کرایا۔ اس الیکشن میں تحریک انصاف کے اراکین کی پارٹی کے خلاف جانے کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں جبکہ اس کا 29 اپریل کا حکم آئین کے مطابق نہیں ہے۔ لارجر بنچ سنگل بنچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔ یہ بھی پڑھیں: گورنر نے سردار عثمان بزدار کا استعفیٰ مسترد کردیا اس سے قبل صوبے میں اس وقت آئینی بحران پیدا ہو گیا تھا جب لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے سردار عثمان بزدار کا بطور وزیراعلیٰ استعفیٰ مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے اس پر آئینی اعتراضات لگائے۔ گورنر پنجاب نے سردار عثمان بزدار کے استعفیٰ مسترد کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کو اس حوالے سے ایک مراسلہ جاری کر دیا تھا۔ خط میں کہا گیا تھا کہ سردار عثمان بزدار کا استعفیٰ آئین کے آرٹیکل 130 کے سب سیکشن 8 کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ گورنر کو دیا ہی نہیں تھا۔ اس کیساتھ ہی تحریک انصاف یہ دعویٰ کرنا شروع ہو گئی تھی کہ سردار عثمان بزدار بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب بحال ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی حکام کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا استعفیٰ مسترد ہونے کے بعد پنجاب کابینہ بھی بحال ہو گئی ہے۔ عثمان بزدار کو فوری پنجاب کابینہ کا اجلاس بلانے کی تجویز دے دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ عثمان بزدار نے 28 مارچ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا جسے اس وقت کے گورنر چوہدری محمد سرور نے یکم اپریل کو منظور کر لیا تھا۔

Watch Live Public News

ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔