پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں شدت اختیار کر گئیں، لاکھوں افراد متاثر

پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں شدت اختیار کر گئیں، لاکھوں افراد متاثر
کیپشن: پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں شدت اختیار کر گئیں، لاکھوں افراد متاثر

ویب ڈیسک: پنجاب کے مختلف اضلاع میں دریاؤں اور برساتی نالوں میں طغیانی کے باعث سیلابی صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔ اب تک 15 لاکھ کے قریب افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ درجنوں دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح بتدریج کم ہورہی ہے جہاں اس وقت 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، تاہم قصور کے مقام گنڈا سنگھ پر 1955 کے بعد سب سے بڑا ریلا دیکھا گیا جہاں پانی کا اخراج 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

محکمہ آبپاشی کے مطابق ہیڈ محمد والا ملتان سے 7 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے اور اگر ضرورت پڑی تو حفاظتی شگاف ڈالنے کا فیصلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب جھنگ میں ہیڈ تریمو سے کل صبح 9 لاکھ کیوسک تک کا ریلا گزرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ادھر سیالکوٹ اور حافظ آباد میں 85 دیہات کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے جبکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔ احمد پور شرقیہ، پاکپتن اور چشتیاں میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے متعدد بستیاں زیر آب آگئیں۔

 متاثرین اور امدادی کارروائیاں
پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک 1769 مواضعات متاثر اور 28 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ سیلاب کے باعث ہزاروں مکانات منہدم جبکہ 82 ہزار سے زائد مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق 92 ہزار 844 افراد کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ پنجاب بھر میں 808 ریسکیو بوٹس اور 1800 سے زائد اسکاؤٹس امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

پنجاب پولیس کے 15 ہزار اہلکار بھی ریسکیو سرگرمیوں میں شریک ہیں جنہوں نے اب تک 38 ہزار مرد، 27 ہزار خواتین اور 25 ہزار بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

سندھ اور بلوچستان میں خطرے کی گھنٹی
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ 3 اور 4 ستمبر کو پنجند سے 9 سے ساڑھے 9 لاکھ کیوسک پانی گزرنے کا امکان ہے۔ گڈو بیراج پر 5 سے 6 ستمبر کے دوران 8 سے 11 لاکھ کیوسک پانی پہنچ سکتا ہے۔

بلوچستان کے اضلاع جعفر آباد، صحبت پور، اوستہ محمد اور روجھان میں بھی 2 ستمبر سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

حکومتی اقدامات اور عالمی امداد
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ آبی گزرگاہوں پر قائم غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ کیا جائے گا اور ان کے مالکان کو کسی قسم کا معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لیے 30 لاکھ ڈالر کی ایمرجنسی گرانٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

 واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے آئندہ دو روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے جس سے دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

Watch Live Public News