وزیر اعظم کی پی ٹی آئی کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت

وزیر اعظم کی پی ٹی آئی کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت

(ویب ڈیسک )  وزیراعظم شہباز شریف نے  پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نےوفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤس کمیٹی میں پی ٹی آئی کے مطالبات پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے یہ دعوت مذاکرات کے عمل میں تعطل کے دو روز بعد دی گئی ہے۔

یادرہےمنگل کے روز مذاکرات کے طے شدہ راؤنڈ میں پی ٹی آئی کے وفد نے شرکت نہیں کی تھی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا، تاہم سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے مشاورتی اجلاس میں پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکراتی سیشن میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا تھا۔

اجلاس کے دوران سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے سینیئر رہنماؤں اسد قیصر اور عمر ایوب سے دوبارہ ٹیلیفونک رابطہ کیا اور مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی۔

سپیکر نے کہا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے اور یہ وقت ہے کہ فریقین مل بیٹھ کر معاملات طے کریں۔ تاہم، پی ٹی آئی نے مشاورت کے بعد مذاکراتی عمل میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور واضح کیا کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے بغیر مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

جس کے بعد حکومتی کمیٹی مذاکراتی اجلاس کے لیے کمیٹی روم میں آئی اور سپیکر کی سربراہی میں باضابطہ اجلاس ہوا۔ تاہم اپوزیشن کے نہ آنے کی وجہ سے اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہم نے ایک کمیٹی بنائی اور سپیکر کے توسط سے یہ مذاکرات شروع ہو گئے۔ جس کے لیے ان کی کمیٹی کے جانب سے ڈیمانڈ کی گئی کہ انہیں لکھ کر دیا جائے، ہماری کمیٹی نے کہا ہم آپ کو لکھ کر جواب دیں گے، میٹنگ اسی ماہ کی 28 تاریخ کو ہونی تھی لیکن اس سے پہلے وہ بھاگ گئے۔ ہمارے(حکومتی کمیٹی) ممبرز نے انہیں کہا کہ آپ نے لکھ کر ہمیں ڈیمانڈز دی ہیں، ہم بھی آپ کو لکھ کر جواب دینے کے لیے تیار ہیں، ہم آپ سے بات کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ  2018 کے انتخابات کے بعد جب احتجاجاً پارلیمنٹ میں کالی پٹیاں باندھ کر داخل ہوا، تو پی ٹی آئی کے عمران خان نے کہا کہ ہم ہاؤس کمیٹی بنا رہے ہیں، وہ ساری تحقیق کرے گی، آپ اپنے ممبرز منتخب کر دیں۔تو میں نے انہیں اعلان کرنے کو کہا، انہوں نے وہاں پر اعلان کیا لیکن وہ دن ہے اور آج کا دن ، کمیٹی ضرور بنی ہو گی ایک آدھا اجلاس ہوا اور باقی تاریخ کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ اپنے گریبان میں جھانکیں، وہ ہاؤس کمیٹی بنی تھی جوڈیشنل کمیشن نہیں بنا تھا، جس کی میٹنگ ہی نہیں ہوئی۔‘

شہباز شریف نے پی ٹی آئی ارکان سے کہا کہ آئیں، بیٹھیں، ہاؤس کمیٹی کے لیے ہم تیار ہیں، 2018 الیکشن کمیٹی اپنا کام مکمل کرے اور 2024 پر بھی ہاؤس کمیٹی بنے اور حقائق سامنے لے کر آئے۔

اسی طرح 26 نومبر کے دھرنے کی بات کرتے ہیں تو 2014 کا جو دھرنا تھا، اس کا بھی ہاؤس کمیٹی احاطہ کرے اور 26 نومبر کو بھی احاطہ کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں صدق دل اور نیک نیتی سے تیار ہوں کہ یہ مذاکرات آگے بڑھیں تا کہ ملک بھی آگے بڑھے، ملک مزید نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

Watch Live Public News