ویب ڈیسک: بدھ کے روز لاہور کی پرندہ مارکیٹ کے قریب سیوریج لائن کے ترقیاتی کام کے دوران ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں ایک خاتون اپنی 10 ماہ کی بیٹی سمیت کھلے سیوریج مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گئیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ تعمیراتی مقام پر حفاظتی انتظامات کا فقدان اور انتظامیہ کی جانب سے عوام کو زیرِ تعمیر منصوبوں سے دور رکھنے میں ناکامی قرار دی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد متعلقہ منصوبے پر فی الحال کام روک دیا گیا ہے، تاہم شہریوں نے نشاندہی کی ہے کہ لاہور کے مختلف علاقوں میں جاری دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بھی حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس سے کسی بھی وقت مزید حادثات کا خدشہ موجود ہے۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں اس وقت متعدد ترقیاتی منصوبے تیزی سے جاری ہیں، جن کا مقصد شہر کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا، سیوریج نظام اور سڑکوں کی بحالی، اور شہری سہولیات میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ منصوبے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( ایل ڈی اے)، واسا، سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ، ٹیپا اور دیگر اداروں کے تحت مکمل کیے جا رہے ہیں، جبکہ تمام ترقیاتی سرگرمیاں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ نگرانی جاری ہیں۔
لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام
لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت شہر بھر میں سینکڑوں کلومیٹر نئی سیوریج لائنیں بچھائی جا رہی ہیں، جبکہ 6,013 سڑکوں اور گلیوں کی بحالی کا کام بھی جاری ہے۔ یہ پروگرام 9 زونز پر مشتمل ہے، جن میں فیز ون (6 زونز) اور فیز ٹو (3 زونز) شامل ہیں۔
ایل ڈی اے ذرائع کے مطابق شالیمار زون میں ترقیاتی کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ شالیمار، سمن آباد، راوی، علامہ اقبال، نشتر، واہگہ، عزیز بھٹی، گلبرگ اور ڈیٹا گنج بخش زونز میں کام جاری ہے۔ فیز ون جون 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
داتا دربار کی توسیع اور بھاٹی چوک ری ماڈلنگ
داتا دربار کی توسیع اور بھاٹی چوک کی ری ماڈلنگ کے منصوبے کے تحت پارکنگ ایریاز، پیدل چلنے والوں کے لیے انڈر پاسز، واکنگ فٹ پاتھس اور عمارتوں کی توسیع شامل ہے۔ ان منصوبوں سے نہ صرف ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی بلکہ علاقے کی مجموعی خوبصورتی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ یہ کام لاہور کے مرکزی علاقے داتا دربار اور بھاٹی چوک میں تیزی سے جاری ہے۔
راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ (RUDA)
راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر یو ڈی اے) کا منصوبہ 110,000 ایکڑ رقبے پر محیط ہے، جو لاہور اور شیخوپورہ کو آپس میں ملاتا ہے۔ اس میگا پروجیکٹ میں رہائشی اور کمرشل زونز، مسکنِ راوی اور چہار باغ انکلیو شامل ہیں۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا ریور فرنٹ منصوبہ ہے، جس کے تحت دریائے راوی کے کنارے لاہور سے شیخوپورہ تک 46 کلومیٹر کے علاقے میں ترقیاتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
تاریخی مقامات کی بحالی
دیگر اہم منصوبوں میں صدیوں پرانے ٹیکسالی اور دہلی گیٹ کی جدید بحالی شامل ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے داتا دربار، بھاٹی گیٹ اور موچی گیٹ جیسے تاریخی و سیاحتی مقامات کو بہتر بنایا جا رہا ہے، جس سے تاریخی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ کی بھی امید ہے۔
وزیراعلیٰ کا سخت ایکشن
بھاٹی گیٹ سانحے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واقعے کو قتل کے مترادف قرار دیتے ہوئے غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت 5 افسران کی گرفتاری اور 2 افسران کو ملازمت سے برطرف کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جبکہ مزید ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔