ویب ڈیسک: روسی صدر پیوٹن نے اعلان کیا کہ روس نے اپنے ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ’ پوسائیڈن‘ سپر ٹارپیڈو کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ نیا ہتھیار ماہرین کے مطابق ساحلی علاقوں میں تباہ کن شعاعی سمندری لہریں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو دشمن کے دفاعی نظاموں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ماسکو کے ایک فوجی ہسپتال میں یوکرین جنگ کے زخمی فوجیوں سے ملاقات کے دوران صدر پیوٹن نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب ہم نے نہ صرف اس ٹارپیڈو کو آبدوز سے لانچ کیا، بلکہ اس کا ایٹمی پاور یونٹ بھی کامیابی سے فعال کیا۔ ایسی کوئی ٹیکنالوجی دنیا میں کہیں نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ پوسائیڈن‘ کو روکنا ممکن نہیں۔
پیوٹن نے مزید کہا کہ پوسائیڈن کی طاقت ہمارے جدید ترین بین البراعظمی میزائل سارمات (Satan-II) سے بھی زیادہ ہے، جو اس کی خوفناک صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی حدودِ پرواز 10,000 کلومیٹر تک ہیں، اور اس کی رفتار تقریباً 185 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، جو اسے ایک انتہائی طاقتور اور مؤثر ہتھیار بناتی ہے۔
یہ تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے روس کے خلاف اپنے بیانات اور مؤقف کو مزید سخت کر دیا ہے۔ پیوٹن نے اسی ہفتے ’بریویستنک‘ ایٹمی کروز میزائل (21 اکتوبر) اور ایٹمی لانچ مشقوں (22 اکتوبر) کا بھی حکم دیا تھا، جس سے ان کی جانب سے مغرب کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ روس یوکرین جنگ کے معاملے پر دباؤ میں نہیں آئے گا۔
پوسائیڈن، 20 میٹر لمبا، 1.8 میٹر چوڑا اور 100 ٹن وزنی زیرِ آب ہتھیار ہے۔ یہ ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے اور سیال دھات سے ٹھنڈا ہونے والے ری ایکٹر سے توانائی حاصل کرتا ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق، یہ ہتھیار 2 میگا ٹن ایٹمی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے سب سے طاقتور زیرِ آب ہتھیاروں میں سے ایک بناتا ہے۔