(ویب ڈیسک ) خلاباز پہلی بار خلا میں اپنے ہاتھ کے ایکسرے کی تصاویر لینے میں کامیاب ہوگئے۔
ریڈیالوجی کے ایک معروف جریدے میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں محققین نے بتایا ہے کہ پہلی بار ایک کمرشل خلائی پرواز کے دوران کامیابی سے ایکسرے تصاویر حاصل کی گئی ہیں۔
یہ اہم کامیابی 2025 میں اسپیس ایکس کے فریم 2 (Fram2) مشن کے دوران حاصل ہوئی، جو قطبی مدار میں تقریباً ساڑھے تین دن پر مشتمل کمرشل خلائی مشن تھا۔
خلا بازوں نے ایک کمرشل آف دی شیلف پورٹیبل ڈیجیٹل ایکسرے جنریٹر اور فلیٹ پینل ڈیٹیکٹر کی مدد سے ہاتھ، بازو، سینہ، پیٹ اور کولہے سمیت جسم کے مختلف حصوں کی تصاویر لیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مشن کے عملے نے اس نظام کو استعمال کرنے کے لیے پرواز سے قبل صرف چار گھنٹے کی تربیت حاصل کی تھی۔
ایکسرے تصاویر لینے کا مقصد کیا تھا؟
میو کلینک میں ایرو اسپیس میڈیسن کی اسسٹنٹ پروفیسر اور اس تحقیق کی مرکزی محقق ڈاکٹر شینا گفورڈ کے مطابق، خلا میں بیماریوں اور چوٹوں کی بروقت تشخیص کے لیے مختلف طبی امیجنگ ٹیکنالوجیز کی دستیابی طویل عرصے سے ایرو اسپیس میڈیسن کا ایک اہم ہدف رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ روایتی ایکسرے مشینیں حجم میں بڑی، وزن میں بھاری اور زیادہ توانائی استعمال کرتی ہیں، جبکہ مریض کی معمولی حرکت بھی تصاویر کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس، نئی پورٹیبل ایکسرے مشین ہلکی، تیز رفتار اور مائیکرو گریویٹی کے ماحول میں مؤثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر گفورڈ کا کہنا تھا کہ خلا میں پہلی مرتبہ انسانوں اور آلات کے ایکسرے حاصل کرنا اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ مستقبل میں مدار میں ریڈیالوجی اور تشخیصی سہولیات کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے، جس سے نہ صرف خلا بازوں کی صحت کی نگرانی بہتر ہوگی بلکہ سائنسی تحقیق اور خلائی آلات کی جانچ بھی زیادہ مؤثر انداز میں ممکن ہو سکے گی۔