ویب ڈیسک: ترکیہ میں نئے سال کے موقع پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والے داعش نیٹ ورک کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 357 مشتبہ ارکان کو گرفتار کر لیا گیا۔
ترک حکام کے مطابق داعش کے خلاف ملک کے 12 صوبوں میں بیک وقت آپریشنز کیے گئے، جن کے دوران سینکڑوں مشتبہ دہشت گرد حراست میں لیے گئے۔
ترک وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز یالووا میں کیے گئے ایک آپریشن کے دوران 3 پولیس اہلکار شہید جبکہ داعش کے 6 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ترک پولیس نے بروقت کارروائی کر کے ملک کو ایک بڑی دہشت گردی سے بچا لیا اور دہشت گردی کے راستے پر چلنے والوں کو کسی صورت موقع نہیں دیا جائے گا۔
ترک حکام نے مزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث 137 مشتبہ دہشت گردوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ شامی سرحد پر داعش کی سرگرمیوں کے پیش نظر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ ملکی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے سکیورٹی اداروں کی کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔
وزارت داخلہ کے مطابق ترکیہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے اور کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو ملک میں سرگرم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس کا کہنا ہے کہ شہر میں 110 ایسے مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جو نئے سال کے موقع پر دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اسی طرح انقرہ کے چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس نے داعش سے تعلق رکھنے والے 17 مشتبہ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں، جن میں 11 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔
ترک سکیورٹی فورسز نے چند روز قبل بھی استنبول میں کارروائیوں کے دوران 100 سے زائد مشتبہ داعش ارکان کو گرفتار کیا تھا، جبکہ چھاپوں کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔