ویب ڈیسک: پاکستان میں فائیو جی کی نیلامی قریب، مگر ملک میں فائیو جی ڈیوائسز کی کمی بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ حکومت کو فائیو جی ڈیوائسز کی مقامی سطح پر اسمبلنگ کیلئے فوری مراعات متعارف کروانا چاہیے۔
ٹیلی کام ماہرین کا کہنا ہے کہ سستے فائیو جی موبائلز کے بغیر ٹیکنالوجی صرف ایک طبقے تک رہنے کا خدشہ ہے کیونکہ ڈیوائس ریڈینس کے بغیر فائیو جی لانچ معاشی اثر محدود کر دے گا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں فائیو جی سمارٹ فونز کی تعداد تین ملین سے کم ہے، سستے فائیو جی فونز کی عدم دستیابی سے ڈیجیٹل ڈیوائڈ بڑھنے کا امکان ہے۔ فائیو جی موبائلز کی مقامی سطح پر اسمبلنگ نہ ہونے سے زیادہ قیمتیں اور عام صارف تک رسائی محدود ہوگی۔ اسپیکٹرم کی زیادہ قیمت اور فارن کرنسی سٹریکچر نیٹ ورک رول آؤٹ اور توسیع میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی کے ثمرات تب ہی ممکن ہیں جب اسپیکٹرم پالیسی زمینی معاشی حقائق سے ہم آہنگ ہوں۔ حکومت کو فائیو جی ڈیوائسز کی مقامی سطح پر اسمبلنگ کے لیے فوری مراعات متعارف کروانا چاہیے۔ فائیو جی کی کامیابی کا پیمانہ ریونیو نہیں، صارفین، کوریج اور معاشی قدر ہوگی۔