ویب ڈیسک: ضلع کچہری لاہور میں داتا دربار کے قریب گٹر میں گر کر ماں بیٹی کے جاں بحق ہونے کے واقعے سے متعلق مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے پولیس کی درخواست پر کی۔
سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ متاثرہ خاندان کو ایک کروڑ روپے چیک کی صورت میں ادا کیے جا چکے ہیں، جبکہ بارہ کروڑ روپے متعلقہ بینک اکاؤنٹ میں موجود ہیں۔ وکیل نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے چیک کی فوٹو کاپی عدالت میں پیش کی۔
دوسری جانب پولیس نے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد4روزہ جسمانی ریمانڈمنظورکرلیا۔
بعد ازاں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت میں پیش کیے گئے ملزمان میں پروجیکٹ مینجر اصغر سندھو، احمد نواز، دانیال سمیت مجموعی طور پر پانچ افراد شامل تھے، جنہیں ہتھکڑی لگا کر پیش کیا گیا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل داتا دربار کے قریب کھلے گٹر میں گرنے سے ماں بیٹی جاں بحق ہو گئی تھیں، جس کے بعد واقعے پر تھانہ بھاٹی گیٹ کے ایس ایچ او کو معطل کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا تھا۔