بھارت کا ہندوتوا نظریہ خطے کے امن کے لیے خطرہ بن گیا، عطاتارڑ

بھارت کا ہندوتوا نظریہ خطے کے امن کے لیے خطرہ بن گیا، عطاتارڑ
کیپشن: بھارت کا ہندوتوا نظریہ خطے کے امن کے لیے خطرہ بن گیا، عطاتارڑ

ویب ڈیسک: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے زیر اہتمام " جنوبی ایشیا میں قیام امن" کے عنوان سے ہونے والی پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے خطے میں پاکستان کے امن کردار پر روشنی ڈالی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں استحکام کے لیے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کام کر رہا ہے، جبکہ بھارت میں بڑھتا ہوا ہندوتوا نظریہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک شدید خطرہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دشمنی یا جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ہماری امن کی خواہش کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے۔ وزیر اطلاعات نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے اور حالیہ پہلگام واقعے کا جھوٹا الزام پاکستان پر دھر کر عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

عطا تارڑ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی خطرناک کوشش قرار دیا اور کہا کہ پانی ہمارے قومی وجود کا مسئلہ ہے، اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔

انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک کشمیر کا دیرینہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف اب عالمی سطح پر سنا جا رہا ہے، جبکہ بھارت کو سفارتی محاذ پر سبکی کا سامنا ہے۔ انہوں نے امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کشمیر سے متعلق بیان کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ کشمیر کی جدوجہد نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

Watch Live Public News