ویب ڈیسک: چین میں ہونے والی حالیہ بارشوں نے تباہی مچادی، بارشوں کے ساتھ ساتھ لینڈ سلائیڈنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے، اب ان قدرتی آفات کے نتیجے میں 30 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں جبکہ مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، سب سے زیادہ متاثرہ علاقے بیجنگ، تیانجن اور صوبہ حبیہ شامل ہیں۔
بیجنگ کے می یون ضلع کے شمال مشرقی حصے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جہاں کئی مکانات اور سڑکیں سیلاب اور مٹی کے تودوں کے باعث تباہ ہو گئیں۔ قومی موسمیاتی ادارے نے ریڈ الرٹ جاری کر رکھا ہے۔
حکام کے مطابق بیجنگ سے 80 ہزار سے زائد افراد کو انخلا کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے، جبکہ 130 سے زائد دیہات بجلی سے محروم ہیں۔ ژینژوانگ گاؤں میں کیچڑ سے گاڑیاں ڈھک گئیں اور پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ دہائیوں کا بدترین سیلاب ہے۔
تیانجن میں بھی 10 ہزار سے زائد افراد کو نچلے علاقوں سے نکالا گیا، جبکہ صوبہ حبیہ میں لینڈ سلائیڈنگ سے 8 افراد جاں بحق اور 4 لاپتا ہو گئے۔ کئی پہاڑی دیہات کا دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔
چینی حکومت نے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جس میں فوج بھی شامل ہے۔ صرف صوبہ حبیہ میں 8 ہزار سے زائد افراد کو بچایا جا چکا ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور کئی شہروں میں اب بھی سیلاب کا الرٹ برقرار ہے۔