مودی راج میں بینک فراڈ کا طوفان:آر بی آئی رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

 مودی راج میں بینک فراڈ کا طوفان:آر بی آئی رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
کیپشن: مودی راج میں بینک فراڈ کا طوفان:آر بی آئی رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ویب ڈیسک: بھارت میں بینک فراڈ کے کیسز نے خطرناک حد تک اضافہ کر لیا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں بینک فراڈز کی مالیت میں 194 فیصد اضافہ ہوا، جو بڑھ کر 36,014 کروڑ روپے تک جا پہنچی۔

 تفصیلات کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا کی اہم ترین رپورٹ منظر عام پر آگئی،مودی کے ہندوستان میں بینک فراڈ سنگین حد تک بڑھ گیا۔

آر بی آئی رپورٹ کے مطابق 2024-25 میں 23,953 بینک فراڈ کیسز رپورٹ ہوئے،نجی بینکوں کے فراڈ کیسز کا تناسب 59.42 فیصد رہا، 14,233 کیسز رپورٹ ہوئے،عوامی شعبے کے بینکوں کے ذریعے 25,667 کروڑ روپے کے فراڈ رپورٹ، پچھلے سال یہ رقم 9,254 کروڑ تھی،پبلک سیکٹر بینکوں نے 6,935 فراڈ کیسز رپورٹ کیے، گزشتہ سال 7,460 تھے، قرضوں سے متعلق فراڈز کی مالیت 33,148 کروڑ روپے رہی، گزشتہ سال 10,072 کروڑ تھی۔

آر بی آئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کارڈ و انٹرنیٹ فراڈز میں 520 کروڑ روپے تک کی رقم ریکارڈ کی گئی،122 کیسز میں فراڈ کی نئی درجہ بندی کی گئی، 18,674 کروڑ روپے پچھلے سالوں سے متعلق تھے،سپریم کورٹ کے 27 مارچ 2023 کے فیصلے کے بعد کیسز کی دوبارہ جانچ اور رپورٹنگ کی گئی،نجی بینکوں نے سب سے زیادہ فراڈز رپورٹ کیے، مگر رقم کے لحاظ سے زیادہ نقصان عوامی بینکوں میں ہوا،کارڈ/انٹرنیٹ کے ذریعے سب سے زیادہ تعداد میں فراڈ، جب کہ مالیت میں فراڈز زیادہ تر قرضوں میں ریکارڈ کیے گئے۔

آر بی آئی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فراڈز اس سال رپورٹ ہوئے لیکن کئی سال پہلے وقوع پذیر ہوئے تھے،31 مارچ 2025 تک 783 فراڈ کیسز، 112,911 کروڑ روپے کی مالیت کے، عدالتی اصولوں کی خلاف ورزی پر واپس لیے گئے۔

Watch Live Public News