صدر ٹرمپ کا بڑا یوٹرن، ایران کو معاہدے کیلئے تبدیل شدہ سخت تجاویز بھیج دیں

صدر ٹرمپ کا بڑا یوٹرن، ایران کو معاہدے کیلئے تبدیل شدہ سخت تجاویز بھیج دیں
کیپشن: صدر ٹرمپ کا بڑا یوٹرن، معاہدے کیلئے ایران کو تبدیل شدہ سخت تجاویز بھیج دیں

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن فریم ورک کا تبدیل شدہ مسودہ تہران کو بھیج دیا ہے، جس میں پہلے کے مقابلے میں مزید سخت شرائط شامل کی گئی ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اہم نکات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے میں ترامیم کے بعد اسے دوبارہ ایرانی قیادت کے غور کے لیے ارسال کیا، تاہم ان تبدیلیوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ ان شقوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں جن کے تحت ایران کے منجمد اثاثے بحال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ وہی نکتہ ہے جس پر وہ 2015 کے جوہری معاہدے پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔

مذاکرات براہِ راست نہیں بلکہ ثالثوں کے ذریعے جاری ہیں، جن میں بعض غیر ملکی حکام کے ساتھ پاکستانی حکام کے شامل ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق نئے مسودے کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور اسے پہلے سے طے شدہ فریم ورک قبول کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی قیادت سے رابطوں میں مشکلات کے باعث مذاکراتی عمل سست روی کا شکار ہے، اور دستاویز میں مزید تبدیلیوں کی صورت میں تاخیر کا امکان موجود ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق زیادہ حساس امور، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق معاملات، آئندہ مراحل میں زیرِ بحث آئیں گے۔

دوسری جانب امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ اب بھی معاہدے کی جلد تکمیل کے خواہاں ہیں، تاہم وہ جوہری مواد اور ضمانتوں کے حوالے سے مزید سخت مؤقف رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تازہ ترامیم کے بعد فریقین کے درمیان پیغامات اور تبادلۂ خیال کا نیا دور شروع ہو گیا ہے، جو آئندہ دنوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

امریکی عہدیداروں کے مطابق ایران کو جواب دینے میں چند روز لگ سکتے ہیں، جبکہ معاہدے پر پیش رفت آئندہ ہفتے کے آغاز تک سامنے آنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

Watch Live Public News