حکومت کا نیٹ میٹرنگ ریٹ فی یونٹ کم کرنے پر غور

حکومت کا نیٹ میٹرنگ ریٹ فی یونٹ کم کرنے پر غور
کیپشن: حکومت کا نیٹ میٹرنگ ریٹ فی یونٹ کم کرنے پر غور

ویب ڈیسک: سردیوں کے دوران دن میں بجلی کی طلب میں کمی اور سولر توانائی سے اضافی بجلی پیدا ہونے کے خدشے کے پیش نظر حکومت نیٹ میٹرنگ کی قیمت کم کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق، حکومت نیٹ میٹرنگ کی موجودہ قیمت 22 روپے فی یونٹ سے کم کرکے 11.30 روپے فی یونٹ کرنے پر غور کر رہی ہے، جبکہ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو قیمتوں پر نظرثانی کی ہدایت دے دی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، نیٹ میٹرنگ اسکیم نے بجلی کے نظام پر مالی دباؤ پیدا کر دیا ہے، جو گرڈ سے وابستہ صارفین کے لیے دو روپے فی یونٹ اضافی لاگت کا باعث بن رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، چھتوں پر نصب سولر سسٹمز میں تیزی سے اضافے کے باعث گرڈ کے ذریعے فروخت ہونے والی بجلی میں 3.2 ارب یونٹس کی کمی آئی ہے، جس سے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے منافع میں 101 ارب روپے تک کی کمی واقع ہوئی۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے ٹیرف میں 0.9 روپے فی کلوواٹ آور کا اضافہ کیا گیا۔

پاور ڈویژن کے تخمینے کے مطابق، اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو مالی سال 2034 تک بجلی کی فروخت میں کمی 18.8 ارب یونٹس تک پہنچ سکتی ہے، جس سے 545 ارب روپے کا مالی اثر پڑے گا، اور بجلی کی قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ اضافہ ہو سکتا ہے۔

عہدیداروں کے مطابق، یہ معاملہ اب ایک سنگین مسئلے کی شکل اختیار کر چکا ہے اور وزیراعظم نے ذاتی طور پر مداخلت کرتے ہوئے اس پر غور کا حکم دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 22 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم نے نیپرا اور پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ بائی بیک ٹیرف کا تفصیلی جائزہ لیں اور تصدیق کریں، کیونکہ موجودہ نظام سولر صارفین کے لیے بیٹری اسٹوریج کے متبادل کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

Watch Live Public News