مقامی حکومتوں کو بااختیاربنانے کیلئے وفاق 27ویں آئینی ترمیم کرے،ملک احمد خان

مقامی حکومتوں کو بااختیاربنانے کیلئے وفاق 27ویں آئینی ترمیم کرے،ملک احمد خان
کیپشن: اسپیکر پنجاب اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم کا عندیہ دیدیا

ویب ڈیسک: اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کیلئے وفاق کو اگر 27ویں ترمیم کی ضرورت پڑے تو ضرور کرے۔

مزیدتفصیلات کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے پریس کانفرنس کی ہے۔ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مقامی حکومتوں پر کھل کر بات ہونی چاہیے۔ منگل کے روز اجلاس کے دوران ایک متفقہ قرارداد پاس ہوئی۔ اس قرارداد پر تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طورپر پاس کیا۔

ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ کاکس پنجاب اسمبلی میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں۔ کاکس لوکل حکومت پر اسی اراکین شامل ہیں اپوزیشن کے تو پینتیس اراکین تھے۔ احمد اقبال چوہدری، رانا محمد ارشد اور علی حیدر گیلانی نے اچھا کردار ادا کیا۔ مقامی حکومتوں کا ریکارڈ قیام پاکستان سے پہلے سے اب تک درجن سے زائد شقیں رہیں جس پر بحث جاری رہی۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو تو مقامی حکومتوں کے انتخابات کا وقت طے ہو۔ متفقہ قرارداد میں کہاگیا 140 اے نامکمل ہے صوبے مقامی حکومتیں قائم کریں گے۔ ایک حکومت ختم تو نئی حکومت نے آتے ہی لوکل گورنمنٹ کو ختم کردیا پھر کیا قانون بنانے میں تین سال کا عرصہ لگا۔ پی ایل جی او نے بہت بڑا انقلاب برپا کیا اب کیونکہ ڈکٹیٹر کے ذریعے لائی گئی تو پھر اس پر جیلسی آ گئی۔ 

ملک محمد احمد خان نے مزید کہا کہ قرارداد میں سفارش کی گئی ہے پارلیمنٹ کو بھیجی گئی قرارداد میں آئینی ترمیم کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مقامی حکومت کی حکومت کی گارنٹی دی جائے مالی سیاسی اختیارات نچلی سطح تک پہنچائی جائے۔ پچیس کروڑ لوگوں کا ملک پندرہ سو لوگوں سے کیسے چلایا جائے؟ اب تو تین گنا آبادی سے پندرہ سو لوگ کیسے جمہوری ثمر عوام تک پہنچائیں گے وگرنہ لوگوں کا جمہوریت سے اعتماد اٹھنا شروع ہوجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی و سینٹ سے قرارداد کے ذریعے کہا گیا 140 اے میں مقامی حکومتوں کے وقت کا تعین کیا جائے۔ اسمبلی آئین میں نہیں پارلیمنٹ ہی ترمیم کر سکتی ہے۔ آئین نے جس طرح نیشنل فنانس کمیشن کو تحفظ فراہم کیا اسی طرح لوکل گورنمنٹ کی حکومتوں کو بھی تحفظ کیا جائے۔ ملکی ستتر سالوں میں پچاس سال مقامی حکومتیں ہی موجود نہیں ہیں۔ لوکل کونسل ہی موجود نہیں ہوگی تو عوام کے مسئلے کیسے حل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ توقع کرتا ہوں سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی، جے یو آئی اور پی ٹی آئی آرٹیکل 140 اے کو اہمیت دیں گی۔ لوکل گورنمنٹ کے ساتھ پہلے سپیڈ بریکر آئے کبھی ڈیلیور کیا کبھی نہیں کیا۔ سیاست کی آج کی صورتحال میں لوکل حکومت کا نہ ہونا ریاست کے کنٹریکٹ کو کمزور کرتا ہے۔ یہ بات شدت سے محسوس کی اگر مجھ سے مقامی حکومت ٹیکس وصول کرے اور کسی بھی علاقہ میں وہ پیسہ خرچ کرے صفائی ، قبرستان پر پیسہ لگائے۔ گندگی کے ڈھیر گلبرگ یا ڈیفنس کے لوگوں کے مسائل نہیں لیکن جہاں میں رہتا ہوں وہاں گندگی ہے پانی کے مسائل ہیں اگر مسائل ہوں گے تو کیا عوام کا ریاست سے معاہدہ باقی رہ جائے گا؟

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ ملنا چاہیے پارلیمنٹ اس پر غور کرے۔ آئین میں ترمیم کرنے کےلئے پارلیمنٹ کو کردار ادا کرنا ہوگا پہلی بار تہتر کے آئین میں تبدیلی کےلئے پارلیمنٹ کیسے قرارداد پر عمل کرتی ہے۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کی بازگشت ہے ہم چاہتے ہیں یہ ترمیم ضرور ہو۔اگر عدالتی اختیارات کو سلب کیا گیا ہے تو ریڑھ کی ہڈی کے بغیر پارلیمنٹ کا کوئی فائدہ نہیں۔ پارلیمنٹ سے بنیادی ڈھانچہ کی ایسی تشریح کروائی گئی جو قابل قبول نہیں تھی۔ کہاگیا ججز کی تعیناتی ہٹانا ہو تو بنیاد ایگزیکٹو پارلیمنٹ عدلیہ کو الگ الگ قرار دیا گیا۔ بنیادی اصول عوام حاکمیت کا سرچشمہ ہے جن کو منتخب کرتے ہیں وہ ایگزیکٹیو اور عدلیہ کو ہی جنم دیتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بغیر ریڑھ کی ہڈی کے بغیر پارلیمنٹ کے افسوس رہا چھبیس ویں آئینی ترمیم درست ہوئی۔ ستائیسویں آئینی ترمیم لوکل گورنمنٹ کیلئے کرنا ہو تو فورا کریں اس کےلیے آل پارٹیز کانفرنس بھی بلانا پڑے تو بلائیں۔ صوبوں کے متعلق ہائی کورٹ کا صوبائی اسمبلی کے معاملات میں مداخلت رولز کے متعلق ہے وہ مداخلت نہیں کرسکتے۔ ہائی کورٹ کا اختیار وہ پارلیمانی لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے تو فیصلہ دے سکتا ہے لیکن ایوان میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ قومی اسمبلی سینیٹ سے کہہ رہے ہیں اگر وہ ترمیم کررہے ہیں تو اس ترمیم پر بھی غور کریں جو ہم نے ان کو بھیجی ہے۔

Watch Live Public News