ویب ڈیسک:وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) نے ملک بھر میں تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے کام کا آغاز کردیا ہے۔ یہ اقدام سالِ 2025–26 صارف کی خدمت میں بہتری مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد بجلی کے نظام میں شفافیت، کارکردگی اور صارفین کی سہولت کو بہتر بنانا ہے۔
پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق میٹر ہی صارف اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان اصل رابطہ ہوتے ہیں۔ اسمارٹ میٹرز کے ذریعے بجلی کے استعمال کا ریئل ٹائم ڈیٹا حاصل کیا جا سکے گا جس سے بلنگ کی غلطیاں کم ہوں گی اور شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ یہ اقدام پاکستان کے بجلی کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے کی وسیع تر کوششوں کا ایک حصہ ہے۔
اسمارٹ میٹرز کی زیادہ قیمت اس منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ پہلے ایک سنگل فیز اسمارٹ میٹر کی قیمت تقریباً 20 ہزار روپے تھی جو اب کم ہو کر 15 ہزار روپے رہ گئی ہے، اندازہ ہے کہ اگر ہر سال 50 لاکھ پرانے میٹرز بدلے جائیں تو ملک کو تقریباً 25 ارب روپے سالانہ کی بچت ہوگی۔
اسمارت میٹر لگنے کے بعد صارفین اپنے بجلی کے استعمال کو موبائل ایپ کے ذریعے لمحہ بہ لمحہ دیکھ سکیں گے۔ اس سے نہ صرف وہ اپنی کھپت بہتر انداز میں کنٹرول کر سکیں گے بلکہ بلوں میں غلطی اور بل پر تنازع کے امکانات بھی ختم ہوجائیں گے۔
مزید یہ کہ مستقبل میں پری پیڈ میٹرز کے نظام کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی جس سے پاکستان کا توانائی شعبہ مزید ڈیجیٹل، شفاف اور صارف دوست بننے کی طرف بڑھے گا۔