ویب ڈیسک: محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں غیر قانونی پتنگ بازی کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں مراسلہ صوبائی کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو ارسال کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق حکومتِ پنجاب نے صوبے کے بعض علاقوں میں غیر قانونی پتنگ بازی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے پیش نظر صوبہ بھر میں کائٹ فلائنگ ریگولیشنز بل 2025 کے تحت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تاہم صوبائی کابینہ نے قانون کے مطابق صرف 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور میں محدود پیمانے پر محفوظ بسنت منانے کی اجازت دی ہے۔
ترجمان محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ مقررہ تاریخوں سے قبل کسی بھی مقام پر پتنگ بازی یا پتنگ سازی مکمل طور پر ممنوع ہے۔ غیر قانونی پتنگ بازی انسانی جانوں اور عوامی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہے، اور ماضی میں اس کے باعث متعدد راہگیروں کے زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کا تحفظ حکومتِ پنجاب کی اولین ترجیح ہے، اس لیے خطرناک پتنگ بازی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جشنِ بہاراں کے دوران صرف ثقافتی سرگرمی کے طور پر محفوظ بسنت کی اجازت ہو گی، جبکہ تندی، دھاتی ڈور یا مانجھا لگی ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی پتنگ سازی یا فروخت میں ملوث افراد کو بھاری جرمانے اور طویل قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پتنگ بنانے والوں، سامان فراہم کرنے والوں اور پتنگ بازی میں شامل تمام افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جو کائٹ فلائنگ ریگولیشنز بل 2025 کے مطابق ہو گی۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے تمام اضلاع کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان احکامات پر عملدرآمد کی مکمل رپورٹ محکمہ داخلہ کو ارسال کریں۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ بسنت کے دوران قوانین کی پابندی کریں اور اس تہوار کو محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں منائیں۔