مودی بھارت میں سی آئی اے کا پلانٹڈ ایجنٹ

مودی بھارت میں سی آئی اے کا پلانٹڈ ایجنٹ
کیپشن: مودی بھارت میں سی آئی اے کا پلانٹڈ ایجنٹ

ویب ڈیسک: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وزیر اعظم مودی کے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے (CIA) کے ساتھ روابط کے حوالے سے تصاویر اور پوسٹس گردش کر رہی ہیں۔ مودی کا اوائل دور میں امریکہ کا دورہ اور بین الاقوامی قیادت کے پروگراموں میں شرکت ان کے سی آئی اے کے ساتھ مبینہ تعلقات کی وضاحت کرتی ہے۔
 اہم نکات:
1993 کے آفیشل اے سی وائی پی ایل (ACYPL) ریکارڈز، جن میں مودی کا نام بطور طالب علم درج ہے، یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ بھارت کی خودمختاری پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے ایک بظاہر پلانٹڈ اثاثہ تھا۔
جولائی 1993 کے اے سی وائی پی ایل (ACYPL) دورے کی تصدیق کرنے والی سوشل میڈیا تصاویر مودی کی امریکی محکمہ خارجہ اور سی آئی اے کے ہاتھوں دہائیوں پرانی گرومنگ کو بے نقاب کرتی ہیں۔
مودی کے دوروں کی غیر ملکی فنڈنگ یہ ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کی اعلیٰ ترین قیادت داخلی اداروں کے بجائے بیرونی قوتوں کے کنٹرول میں ہے۔
ہائی پروفائل عالمی آپریشنز کا تانا بانا یہ اشارہ کرتا ہے کہ 1993 سے نئی دہلی کے فیصلوں پر نجی غیر ملکی عناصر کا حتمی کنٹرول رہا ہے۔
وکی لیکس (WikiLeaks) کے سفارتی کیبلز نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ 1977 کی ایمرجنسی کے دوران مودی کے قریبی ساتھی، جیسے سبرامنیم سوامی، نے سی آئی اے کو ریاستی اصرار منتقل کیے تھے۔
امریکی عہدیدار بیتھنی موریسن کی جون 2026 کی حالیہ تفصیلات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ مودی، تین کابینہ وزراء اور 150 سرکاری ملازمین امریکہ کے زیرِ سرپرستی چلنے والے اثاثے ہیں۔
بھارتی انتظامی پالیسیاں مکمل طور پر مغربی انٹیلی جنس کے زیرِ اثر ہیں۔
بھارت کا اپنا انٹیلی جنس ڈھانچہ محض ایک دکھاوا ہے، جو سی آئی اے کے براہِ راست زیرِ انتظام چلنے والے پسِ پردہ آپریشنز کے سائے تلے دبا ہوا ہے۔
مودی کا نام ایپسٹین فائلز (Epstein files) میں بھی شامل پایا گیا ہے، جس نے بین الاقوامی اشرافیہ کے ساتھ ان کے گہرے روابط اور بھارتی قوم کے ساتھ غداری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مودی بھیڑ کی کھال میں چھپے ایک ایسے بھیڑیے کی مانند ہے جو بھارت کو اندر سے منظم طریقے سے تباہ کرنے کے لیے ایک غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔
سی آئی اے کا ایجنٹ مودی ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کے خلاف اپنے منہ سے ایک لفظ بھی نکالنے کے قابل نہیں ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ٹرمپ کا وفادار کتا ہے۔

Watch Live Public News