پاکستان کی کپتانی کا موقع ملا تو ضرور کروں گا،یہ ایک خواب ہے، امام الحق

پاکستان کی کپتانی کا موقع ملا تو ضرور کروں گا،یہ ایک خواب ہے، امام الحق
کیپشن: پاکستان کی کپتانی کا موقع ملا تو ضرور کروں گا،یہ ایک خواب ہے، امام الحق

(محمد شکیل خان)  پاکستان کے اوپننگ بیٹر امام  الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کی کپتانی کا موقع ملا تو ضرور کروں گا،یہ ایک خواب ہے۔
این سی اے ریڈبال کیمپ  کے دوران  پبلک نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے اوپننگ بیٹر امام  الحق نے کہاکہ بہت عرصے بعد ریڈ بال کا ایسا کیمپ لگا  جس کی ضرورت تھی۔2016-17 میں ایسے کیمپ میں شرکت کی تھی۔کیمپ میں  تمام چیزوں پر کام کیا گیاجس میں فٹنس، ذہنی پختگی، سٹیمنا، ٹیکنیکس، لمبی بیٹنگ سمیت ان چیزوں پر زیادہ کام کیا گیا جس کی ہمارے اندرکمی تھی۔صبح 5 بجے  کیمپ میں سیشن ہوتے تھے اور پھر دوپہر کو گرمی میں بھی ٹریننگ کی۔ فٹنس کے نئے پیرامیٹرزآئے ہیں جو کہ  کا فی اچھے ہیں۔اس کیمپ میں مینٹل ٹفنس  سیکھنے کو ملی اس کے علاوہ اسپیکنگ لیکچرزبھی ہوئے۔
تینوں فارمیٹس کے سوال پر امام  الحق نے کہاکہ کسی ایک فارمیٹ کوٹارگٹ نہیں کیا کوشش کرتاہوں کہ جس فارمیٹ میں موقع ملے وہاں اس فارمیٹ کے حساب سے کھیلوں باقی سلیکٹرز کا کام ہے۔میں تینوں فارمیٹس میں پرفارمنس دینا چاہتاہوں کیونکہ میرے لئے تینوں فارمیٹس  میری ترجیح ہے۔
کپتانی کے سوال پر کہاکہ کسی بھی کھلاڑی  کے لئےکسی بھی فارمیٹ میں   پاکستان کی کپتانی کرنا ایک اچھا موقع اور خواب ہوتا ہے۔ڈومیسٹک میں دو تین سال سے کپتانی کر رہاہوں اگر ایسا کوئی موقع آئے گاتو ضرور سوچوں گا۔
اوپننگ بیٹر کا کہنا تھا کہ لاہور میں گرمی ضرور ہے مگر کچھ  حاصل کرنے کے لئے ان چیزوں سے نکلنا ہوتا ہے۔ ویسے بھی ہماری ٹیم کچھ اچھا پرفارم نہیں کر رہی ہے۔ کھلاڑی ہی میچ جتواتے ہیں اور کھلاڑی ہی میچ ہرواتے ہیں۔سب نے مل کر ہی کم بیک کرنا  ہےاور ایک ساتھ چلنا ہے ۔
ٹیم سے ڈراپ ہونے کے سوال پر امام نے کہاکہ سات آٹھ سالوں سےپاکستان کےلئے کھیل رہاہوں۔بطورپروفیشنل ایسی چیزوں سےنبردآزماہونا  پڑتاہے۔ڈومیسٹک کرکٹ کا کوئی میچ نہیں چھوڑا اور وہاں پرفارمنس بھی دی۔

Watch Live Public News

اسپورٹس رپورٹر

 محمد شکیل خان ایک نوجوان اسپورٹس رپورٹر ہیں جو نہ صرف فیلڈ میں متحرک ہیں بلکہ دنیا بھر میں ہونے والے اسپورٹس ایونٹس اور خصوصا کرکٹ کے حوالے سے اپنے قارئین کو باخبر رکھا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔