ویب ڈیسک: آیت اللہ علی خامنہ ای 1939ء میں ایران کے شہر مشہد میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جواد خامنہ ای مقامی عالمِ دین تھے اور وہ نسبتاً سادہ اور محدود وسائل میں پلے بڑھے۔ ابتدائی تعلیم مشہد میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے نجف (عراق) میں فقہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جہاں وہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کے شاگرد رہے۔
انقلاب سے اقتدار تک
1960ء اور 1970ء کی دہائی میں وہ شاہِ ایران کے خلاف تحریک میں سرگرم رہے۔ اس دوران انہیں متعدد بار گرفتار کیا گیا، تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ عرصہ روپوش بھی رہے۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد وہ اسلامی انقلابی کونسل کے رکن بنے۔
1981ء میں 95 فیصد ووٹ لے کر ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ اسی سال ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے جس کے باعث ان کا دایاں بازو متاثر ہوا۔ ایران-عراق جنگ کے دوران انہوں نے پاسدارانِ انقلاب کی قیادت میں بھی کردار ادا کیا۔ 1989ء میں آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد 88 رکنی مجلسِ خبرگان نے انہیں ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا۔
اختیارات اور اثر و رسوخ
رہبرِ اعلیٰ کی حیثیت سے خامنہ ای ایران کے سب سے بااختیار شخصیت تھے۔ انہیں ریاستی پالیسی کی سمت متعین کرنے، مسلح افواج کی کمان، عدلیہ کے سربراہ کی تقرری اور اہم ریاستی معاملات میں فیصلہ کن اختیار حاصل تھا۔ وہ شاذ و نادر ہی بیرونِ ملک جاتے اور تہران میں ایک سادہ رہائش گاہ میں زندگی گزارتے تھے۔
نظریہ اور علاقائی پالیسی
خامنہ ای نے خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو “مزاحمت کا جغرافیہ” قرار دیا۔ ان کے دور میں لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کو ایران کی حمایت حاصل رہی۔ تاہم 2023ء کے بعد خطے کی صورتحال میں بڑی تبدیلیاں آئیں اور اس محور کو دھچکا پہنچا۔
انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو بھی تیز رفتاری سے آگے بڑھایا، جس پر امریکا اور اسرائیل سے کشیدگی برقرار رہی، خصوصاً 2018ء میں امریکا کے جوہری معاہدے سے انخلا کے بعد۔
داخلی چیلنجز
ان کے دورِ قیادت میں ایران کو سیاسی جبر، معاشی مشکلات اور عوامی احتجاج کا سامنا رہا۔ 1997ء، 2009ء، 2019ء اور 2022ء میں مہسا امینی کی موت کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے، جنہیں سیکیورٹی فورسز نے سختی سے کنٹرول کیا۔ دسمبر 2025ء میں بھی معاشی بحران کے باعث ملک میں شدید احتجاجی لہر دیکھنے میں آئی۔
آیت اللہ علی خامنہ ای تقریباً چار دہائیوں تک ایران کی سیاسی، عسکری اور نظریاتی سمت متعین کرتے رہے اور خطے کی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے۔