ویب ڈیسک: آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی اڈوں کے خلاف حملوں کی چھٹی لہر شروع کر دی گئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق خطے میں موجود 27 امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ عراق کے اربیل ایئرپورٹ پر بھی حملہ کیا گیا جو امریکی اور اتحادی افواج کے زیرِ استعمال ہے۔ الجزیرہ کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ دبئی میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں مقبوضہ بیت المقدس میں دھماکے ہوئے، ایک اسرائیلی ہلاک اور 20 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ایرانی جوابی کارروائیوں کے باعث قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، اردن، سعودی عرب اور عراق سمیت کئی ممالک میں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ کشیدگی کے پیشِ نظر خطے کے متعدد ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔
ایرانی جنرل اسٹاف نے بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو “پچھتانے پر مجبور کر دیا جائے گا” اور دشمنوں کے ہتھیار ڈالنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
دوسری جانب عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے ایران میں 30 سے زائد مقامات پر نئی کارروائیاں کی ہیں، جن میں مغربی اور وسطی ایران میں بیلسٹک میزائل نظام اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
خطے میں جاری حملوں کے تبادلے نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی اور خطرناک کشیدگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔