ویب ڈیسک: اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح میں تندو تیز ہواؤں اور بارش نے کئی روز سے جاری ہیٹ ویوو کا خاتمہ کردیا ہے۔ شدید تیز ہواؤں کے سبب مختلف عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، پنجاب کے متعدد شہروں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کردی گئی۔
طوفان بادوباراں اس قدر شدید تھا کہ انتظامیہ کو جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس بند کرنا پڑی،جبکہ شہر بھر میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی، سیاہ گھنگھور گھٹاؤں کی وجہ سے اسلام آباد میں شام سے پہلے ہی اندھیرا چھا گیا۔
محکمہ موسمیات نے 5 مئی تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کے سبب کشمیر میں وادی نیلم، مظفرآباد، راولاکوٹ، پونچھ، ہٹیاں، باغ، حویلی، سدھنوتی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور جبکہ اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، ساہیوال، قصور، اوکاڑہ، فیصل آباد میں وقفے وقفے سے آندھی/جھکڑ اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
علاوہ ازیں ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، خوشاب، سرگودھا ، میانوالی ،چترال، دیر، سوات، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، کوہستان، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، وزیرستان، کوہاٹ، لکی مروت، باجوڑ، مہمند، کرک، خیبر، پشاور، مردان ،کرم، گلگت بلتستان میں دیامیر، استور، غذر، سکردو، ہنزہ، گلگت، گھانچے اور شگر میں وقفے وقفے سے آندھی/جھکڑ اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔اس دوران چند مقامات پرموسلادھار بارش اور ژالہ باری کی بھی توقع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ملتان، ڈی جی خان، بہاولپور، بہاولنگر، سکھر، میرپورخاص، خیرپور، تھرپارکر، سانگھڑ، عمرکوٹ، ژوب، خضدار، موسیٰ خیل اور بارکھان میں بھی وقفے وقفے سے گردآلود ہوائیں، جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
ایبٹ آباد میں طوفانی بارش اور جھکڑوں کی تباہ کن لہرؤں سے دن میں ہی رات جیسا اندھیرا چھا گیا، گرج چمک اور آسمانی دھماکوں سے شہری خوفزدہ ہوگئے، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے ہائی الرٹ ہوگئے،روشنیوں کا شہر اندھیروں میں گم ہو گیا، بارش نے نظام زندگی درہم برہم کر دیا۔
ایبٹ آباد سے بجلی کی فراہمی متاثر، کئی علاقوں میں بریک ڈاؤن، سڑکیں پانی سے لبریز، ٹریفک جام کی صورتحال درپیش، محکمہ موسمیات کی جانب سے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی
ایبٹ آباد میں ضلعی انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کر دی، طوفانی موسم کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا۔