افغانستان کے مدارس میں دیوبندی نصاب کا نفاذ

افغانستان کے مدارس میں دیوبندی نصاب کا نفاذ
کیپشن: افغانستان کے مدارس میں دیوبندی نصاب کا نفاذ

ویب ڈیسک:  بھارت میں مقیم افغان سفارت کار اور بھارتی دیوبندی مدرسے کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط۔

بھارتی میڈیا کے مطابق  نئی دہلی میں افغان سفارت خانے کے حکام اور ممبئی کے دیوبندی مدرسے کے ذمہ داران کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں دیوبندی مدرسے کے سینئر عالم مولوی راشد اعظم نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ملاقات کے دوران دونوں فریقین کے درمیان افغانستان کے مدارس میں بھارتی دیوبندی نصاب شامل کرنے کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
مولوی راشد اعظم نے 9 بنیادی مذہبی کتب کی اشاعت (ہر کتاب کی 2000 کاپیاں) کل 180,000 کتب کی طباعت اور نصاب میں شمولیت کے لیے انہیں افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
10 جنوری 2026 کو یہ کتب آریانہ کارگو سروس کے ذریعے کابل روانہ کی گئیں، جن کی طباعت پر آنے والے 50 لاکھ بھارتی روپے کے اخراجات بھارتی حکومت یا دیوبندی مدرسے نے برداشت کیے۔
 نئی دہلی میں افغان سفارت خانے اور ممبئی کی دیوبندی قیادت کے درمیان حالیہ معاہدہ افغانستان کے مستقبل پر نظریاتی غلبہ حاصل کرنے کی بھارتی چال کو بے نقاب کرتا ہے۔
180,000 کتب کی برآمد کے ذریعے بھارت سفارتی دکھاوے سے آگے بڑھ کر اب افغان عوام کی براہِ راست ذہن سازی (Indoctrination) کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ تعلیمی رسائی محض ایک لبادہ ہے جس کا مقصد افغانستان میں بھارت کے مستقل قدم جمانا اور مغرب کے جانے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو اپنے علاقائی مہروں سے پُر کرنا ہے۔
بھارت اپنی تزویراتی گہرائی (Strategic Depth) کے لیے افغان داخلی معاملات میں مداخلت کی خاطر مذہبی "سافٹ پاور" کا استعمال کر رہا ہے۔
افغانستان کے مذہبی ڈھانچے میں بھارتی مداخلت ان سرحد پار عناصر کی پشت پناہی کے لیے ایک ڈھال فراہم کرتی ہے جو علاقائی استحکام کو نشانہ بناتے ہیں۔
 تعلیمی تعاون کے بہانے بھارت سرگرمی سے ایک ایسا نیٹ ورک تیار کر رہا ہے جو افغان سرزمین کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے اس کے ایجنڈے میں معاون ثابت ہو۔

Watch Live Public News