بی جے پی کی اتراکھنڈ حکومت نے مدرسہ بورڈ ختم کرنے کے بعد تقریباً 500 مدارس کی مالی امداد بند کر دی

بی جے پی کی اتراکھنڈ حکومت نے مدرسہ بورڈ ختم کرنے کے بعد تقریباً 500 مدارس کی مالی امداد بند کر دی
کیپشن: بی جے پی کی اتراکھنڈ حکومت نے مدرسہ بورڈ ختم کرنے کے بعد تقریباً 500 مدارس کی مالی امداد بند کر دی

ویب ڈیسک:  اتراکھنڈ میں وزیرِ اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کی حکومت نے کھل کر مسلم تعلیم کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔

 حکومت نے اتراکھنڈ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو ختم کرنے کے بعد مالی سال 2027–2028 سے تقریباً 500 رجسٹرڈ مدارس کو دی جانے والی تمام سرکاری مالی معاونت بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  یکم جولائی سے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے باضابطہ طور پر کام کرنا بند کر دیا، جبکہ تمام تسلیم شدہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو اتراکھنڈ مائنارٹی ایجوکیشن ایکٹ 2025 کے تحت زبردستی نو قائم شدہ اتراکھنڈ اسٹیٹ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی کے ماتحت کر دیا گیا۔ یہ اقدام اس سے قبل ہونے والے سخت کریک ڈاؤن کا تسلسل ہے، جس میں 200 سے زائد مدارس سیل کر دیے گئے تھے. رجسٹرڈ مدارس میں تقریباً 50 ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ غیر رجسٹرڈ مدارس سمیت مجموعی تعداد 60 ہزار سے 70 ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اساتذہ اور مدارس کے منتظمین شدید مالی بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔
 یہ اصلاحات نہیں بلکہ یہ ایک منظم انداز میں گلا گھونٹنے کی پالیسی ہے۔
 ملک گیر جبر کا تسلسل
بھارت، جہاں دنیا کی تیسری بڑی مسلم آبادی آباد ہے اور جس کی تعداد 20 کروڑ سے 22 کروڑ (یعنی 2026 میں تقریباً 14 سے 15 فیصد آبادی) کے درمیان ہے، اپنے مسلمان شہریوں کی خدمت کرنے والے مدارس کو جارحانہ انداز میں نشانہ بنا رہا ہے۔
2011 کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کی تعداد 17 کروڑ 22 لاکھ (14.2 فیصد) تھی۔  اندازوں کے مطابق 2050 تک یہ تعداد بڑھ کر31 کروڑ 10 لاکھ اور آبادی کا 18 فیصد ہو سکتی ہے، جس کی ایک وجہ شرحِ پیدائش میں معمولی مگر بتدریج کم ہوتا ہوا فرق ہے۔
 اس کے جواب میں بھارتی ریاست ان اداروں کو کچل رہی ہے جو غریب مسلم خاندانوں کو کم خرچ تعلیم فراہم کرتے ہیں۔
اتر پردیش:
یہاں تقریباً 16,500 تسلیم شدہ مدارس اور مجموعی طور پر 25 ہزار کے قریب مدارس موجود ہیں۔ ان میں 19 لاکھ 50 ہزار سے 27 لاکھ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ اساتذہ کی تعداد 10 ہزار سے زائد ایک لاکھ 40 ہزار تک بتائی جاتی ہے- 2024 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن ایکٹ کو کالعدم قرار دیا، اگرچہ بعد ازاں سپریم کورٹ نے مداخلت کی۔  فنڈز میں کٹوتیوں اور تاخیر نے پہلے ہی اساتذہ اور دیگر ملازمین کو شدید متاثر کیا ہے۔ جبری طور پر مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی کے تحت قومی ترانہ اور ریاستی منظور شدہ نصاب کو لازمی بنایا جا رہا ہے۔
 آسام:
2021 سے اب تک 700 سے زائد سرکاری مدارس کو یا تو عام اسکولوں میں تبدیل کر دیا گیا یا بند کر دیا گیا، جس سے تقریباً 98 ہزار طلبہ متاثر ہوئے، جن میں تقریباً نصف لڑکیاں ہیں۔
 بہار، مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستیں:
غیر رجسٹرڈ مدارس کے خلاف سروے، رجسٹریشن مہمات، معائنے اور بندشوں کا سلسلہ جاری ہے۔  گزشتہ برسوں میں مدارس کی عمارتوں کو نقصان پہنچانے اور تشدد کے متعدد واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
 مغربی بنگال:
 اگرچہ ترنمول کانگریس کی حکومت نسبتاً زیادہ معاون سمجھی جاتی ہے، تاہم مرکزی حکومت کی مالی امداد میں کمی نے یہاں بھی مدارس کو متاثر کیا ہے۔
 آل انڈیا سطح پر:
ملک بھر میں 35 ہزار سے 40 ہزار سے زائد مدارس موجود ہیں، جن میں سے بڑی تعداد رجسٹرڈ نہیں۔ ان مدارس میں لاکھوں طلبہ اور ہزاروں علماء و اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد کم آمدنی والے مسلم خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ بعض مدارس غیر مسلم طلبہ کو بھی داخلہ دیتے ہیں۔ یہ ادارے خصوصاً پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں سمیت لاکھوں بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ کم خرچ عمومی تعلیم بھی فراہم کرتے ہیں۔
مرکزی حکومت نے مدارس کے لیے مختص خصوصی فنڈز کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔
نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس معیارِ تعلیم، رجسٹریشن، غیر ملکی فنڈنگ اور بچوں کے حقوق کے نام پر بعض مدارس کے بچوں کو رسمی اسکولوں میں منتقل کرنے پر زور دے رہا ہے۔
بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں خصوصی جبر
بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی غیر قانونی منسوخی کے بعد براہِ راست وفاقی کنٹرول میں آنے والے IIOJK میں مدارس کے خلاف کارروائیاں مزید سخت اور تشویشناک ہو چکی ہیں۔  اگرچہ 2025–2026 میں اتراکھنڈ جیسی بڑے پیمانے پر مدرسہ بورڈ کی تحلیل نہیں ہوئی، تاہم مدارس کو سخت رجسٹریشن، نگرانی، ضابطہ بندی، معائنوں اور عارضی بندشوں کا سامنا ہے۔ غیر ملکی فنڈنگ اور انتہا پسندی کے الزامات کو معمول کے مطابق ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ بھارتی مرکزی تعلیمی نظام میں انضمام کو جارحانہ انداز میں فروغ دے رہی ہے۔ کشمیر میں سینکڑوں روایتی مدارس موجود ہیں، جبکہ اندازوں کے مطابق پورے جموں و کشمیر میں چند ہزار مدارس ہزاروں طلبہ کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ یہ چھوٹے مقامی ادارے کشمیری مسلم شناخت کے تحفظ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دہلی کی یہ پالیسیاں مقبوضہ علاقے کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو کمزور اور قابو میں رکھنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
 اصل ایجنڈا: ثقافتی مٹاؤ اور اکثریتی بالادستی
اتراکھنڈ کا فیصلہ—یعنی 2027–28 سے مالی امداد کا خاتمہ، نصاب کو ریاستی بورڈ کے مطابق ڈھالنے پر مجبور کرنا، جبکہ محدود نجی مذہبی تعلیم کی اجازت دینا—درحقیقت مدارس پر ضابطہ بندی، فنڈنگ میں کٹوتیوں، بندشوں اور جبری مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی ملک گیر پالیسی کا حصہ ہے۔ اس کے براہِ راست اثرات لاکھوں مسلمانوں پر مرتب ہوں گے۔ معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے لیے کم خرچ تعلیمی مواقع ختم ہو جائیں گے۔ اساتذہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوں گے۔ مسلم برادری کی اپنی دینی تعلیم، عربی و اردو زبان، روایات اور تاریخی شناخت کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت کو منظم انداز میں کمزور کیا جا رہا ہے۔
اداروں کی خودمختاری ختم کی جا رہی ہے۔
یہ بھارت کے 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے خلاف ثقافتی مٹاؤ کی ایک واضح مہم ہے۔ بھارت خود کو ایک سیکولر جمہوریت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک جارحانہ اکثریتی ریاست بن چکا ہے، جو ایک تعلیم یافتہ، بااعتماد مسلم آبادی سے خوفزدہ ہے اور اتراکھنڈ کے 500 مدارس سے لے کر آسام کے 700 مدارس، اتر پردیش کے لاکھوں طلبہ اور بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی گلیوں تک ہر ذریعہ استعمال کر رہا ہے تاکہ مسلمانوں کی تعلیمی خودمختاری کو ختم کیا جا سکے۔  یہ ترقی نہیں بلکہ یہ غلبہ قائم کرنے کی کوشش ہے۔ دنیا کو چاہیے کہ وہ مسلم تعلیمی اداروں کے خلاف بھارت کی اس بڑھتی ہوئی مہم کو اس کی اصل حقیقت کے مطابق پہچانے۔

Watch Live Public News