(ویب ڈیسک) مئی 2026 سے اب تک، بھارت کی 6 بی جے پی مقتدر ریاستوں میں صرف 45 دنوں کے اندر 23 سے زائد مساجد، مدارس، عیدگاہیں اور درگاہیں منہدم کی جا چکی ہیں۔
ہزار سالہ قدیم مساجد اور درگاہوں کا انہدام بی جے پی سرکار کی مسلم کش دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دہلی، یوپی اور گجرات سمیت متعدد ریاستوں میں مسلم مذہبی مقامات کو چن چن کر نشانہ بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔
بغیر کسی پیشگی قانونی نوٹس کے راتوں رات مسلم عبادت گاہوں پر بلڈوزر چلانے کی مہم تیز کردی گئی۔ مسلم مقامات منہدم، جبکہ غیر قانونی طور پر قائم قریبی ہندو عبادت گاہوں کو چھونے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
تیز رفتار ہائی پروفائل انہدامی کارروائیوں سے بھارت کا سیکولر تانا بانا اور امن تباہ ہوگیا۔ مساجد اور مدارس کی مسماری مسلم ثقافتی اور مذہبی ورثے کو مٹانے کا باقاعدہ منصوبہ ہے۔ محض 45 دنوں میں 23 سے زائد اسلامی ڈھانچوں کی تباہی فاشسٹ ذہنیت کی عکاس ہے۔
قانونی عمل کو بائی پاس کر کے بلڈوزر کا استعمال انتظامیہ پر ہندوتوا کے قبضے کا ثبوت ہے۔ سنبھل سے جے پور تک جاری حالیہ تباہی نے بھارتی مسلمانوں میں شدید وجودی خوف پیدا کر دیا۔عیدگاہوں اور صدیوں پرانی خانقاہوں پر حملے بنیادی انسانی حقوق پر ہندوتوا کا براہِ راست وار ہے۔
انسانی حقوق کے گروپ 'جسٹس فار آل' نے متنبہ کیا ہے کہ ان انہدامی کارروائیوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا مذہبی آزادی کی آئینی ضمانتوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔