ویب ڈیسک: پہلے افریقی نوبل انعام یافتہ البرٹ لتھولی کو 58 سال بعد بالآخر انصاف مل گیا۔
جنوبی افریقہ کی ایک عدالت نے نوبل انعام یافتہ البرٹ لتھولی کے کیس کا فیصلہ 58 سال بعد سنایا دیا جس میں کہا گیا ہے کہ اُن کو نسل پرست پولیس نے قتل کیا تھا۔
عدالت نے 1967 کی انکوائری رپورٹ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ البرٹ لتھولی کی ٹرین سے ٹکر نہیں ہوئی تھی بلکہ اُن کو تشدد کرکے مارا گیا تھا۔ عدالت نے غلط رپورٹ بنانے پر ڈاکٹروں کو بھی شریک جرم قرار دے دیا۔
البرٹ لتھولی کو بچانے کے بجائے مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا، ہسپتال میں علاج میں جان بوجھ کر تاخیر کی گئی، زخمی لتھولی کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا۔
عدالت نے کہا کہ لتھولی کی موت نسل پرست حکومت کے خلاف سرگرمیوں کا نتیجہ تھی، انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے پولیس اور ٹرین کا عملہ بھی قتل کی سازش میں ملوث تھا۔
جنوبی افریقہ کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقامی پولیس، ریلوے حکام اور ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ملکر لتھولی کو قتل کیا۔